درحقیقت مشرکین مکہ وعرب ان بتوں کو معبود حقیقی نہیں مانتے تھے، بلکہ وہ اللہ کو ہی واحد معبود حقیقی مانتے تھے، وہ ان بتوں کو اللہ کی بارگاہ میں اپنا سفارشی تصور کرتے تھے اور وہ ان بتوں کی تعظیم و عبادت اس اعتقاد کے ساتھ کرتے تھے کہ یہ ان کو اللہ سے قریب کردیں گے، دوسرا وہ تصور کرتے تھے کہ ان بتوں کو خدائی صفات میں سے قوتیں اور طاقتیں حاصل ہیں، لیکن بہرحال حقیقی رازق ومالک وہ اللہ کو ہی مانتے تھے

www.sadaatweb.com

دراصل مشرک ہوتا ہی وہی ہے جو اللہ کو مان کر پھر اس کی ذات، صفات یا عبادت میں کسی اور کو شریک کرے۔
ان مشرکانہ عقائد کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرکین مکہ بری طرح سے توہم پرستی کا شکار ہوگئے، وہ بات بات سے نیک وبد شگون لیتے اور پھر برے شگون سے بچنے کے لیے کاہنوں کی خدمات حاصل کرتے، اس طرح کاہنوں کا جنتر منتر اور ٹوٹکوں کا کاروبار خوب چمکا ہوا تھا، کاہن لوگ جنوں، بھوتوں کے مطیع ہونے کا دعویٰ کرتے اور لوگوں کو جھوٹی سچی غیب کی خبریں دیتے تھے، شرک و بت پرستی میں ڈوبے یہ عرب انتہا درجے کے رسوم پرست تھے اور جاہلانہ رسوم و رواج کا ایک طویل سلسلہ ان کے ہاں رائج تھا۔
ان کی بت پرستی اور توہم پرستی کی بعض نہایت مضحکہ خیز پہلو بھی مؤرخین نے بیان کیے ہیں: مثلا" سفر پر روانہ ہوتے تو ایک پتھر جیب میں ڈال لیتے، راستے میں اگر کوئی اور اچھا پتھر مل جاتا تو پہلے "خدا" کو جیب سے نکال کر پھینک دیتے اور نئے "خدا" کی پرستش شروع کردیتے۔
اگر روانگی کے وقت پتھر ساتھ لینا بھول جاتے تو راستے میں جس منزل پر رکتے تو وہاں سے ہی چار پتھر تلاش کرتے، تین کا چولہا بناتے اور چوتھے کو معبود بنا لیتے، اگر کہیں پتھر نہ ملتے تو مٹی اور کنکریوں کا ایک ڈھیر جمع کرکے اس پر بکری کا دودھ بہاتے اور پھر اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے۔ 
ذوق بت پرستی صرف پتھر تک محدود نہ تھا، لکڑی اور مٹی کے بھی بت بناۓ جاتے، ایک مرتبہ بنو حنیفہ نے کجھوروں کے ایک ڈھیر کی عبادت شروع کردی، اسی اثناء میں قحط پڑ گیا، جب کھانے کو اور کچھ نہ ملا تو سب نے مل کر اپنے "خدا" کو ہی کھا کر ختم کردیا۔
یوں خانہ کعبہ جو زمین پر اللہ کا سب سے قدیم اور مقدس ترین گھر ہے، مشرکین کے ہاتھوں شرک و گمراہی کا گڑھ بن چکا تھا، اہل مکہ کے نزدیک سب سے اہم بت لات، منات، عزی' اور ھبل سمیت لگ بھگ تین سو ساٹھ چھوٹے بڑے بت تھے جو حرم کعبہ میں نصب تھے، عرب ان کی پوجا بھی کرتے اور ان پر قربانیاں بھی پیش کرتے، حج کے دنوں میں یہ کفر و ضلالت کے مناظر اور بڑھ جاتے، جب حج کو آنے والے ننگے ہوکر خانہ کعبہ کا طواف کرتے، بتوں کے آگے فال نکالنے والے پانسے پھینکے جاتے اور نذریں مانی جاتیں۔
غرضیکہ شیطانیت سرزمین عرب پر اپنی انتہاء کرچکی تھی اور عرب قوم شرک و گمراہی میں پستی کے جس مقام پر پہنچ چکی تھی، اس سے آگے کوئی اور پست مقام نہ تھا، اب اللہ کی شان رحمانیت کی باری تھی، چنانچہ انہی مشرکین کے بیچ میں اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیدا کرکے شرک و کفر کے بت پر وہ کاری ضرب لگائی کہ روۓ زمین کے چپہ چپہ پر توحید و وحدانیت کے چراغ روشن ہوگئے۔
کبھی نہ بجھنے کے لیے !!