SAIFI MEDIA

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

تازہ ترین

شیخ فاقے سے ھیں۔

ایک دن حضرت جنید بغدادیؒ نے اپنے شیخ حضرت حارث محاسبیؒ کو اپنے گھر کی طرف سے گزرتے دیکھا۔ حضرت حارث محاسبیؒ کے چہرے پر شدید نقاھت اور پژمردگی کے آثار نمایاں تھے۔ حضرت جنید بغدادیؒ نے یہ کیفیت دیکھ کر اندازہ کر لیا کہ شیخ فاقے سے ھیں۔ آپؒ نے کسی تامل کے بغیر عرض کیا:
’’چچا! گھر میں تشریف لایئے اور کچھ تناول فرما لیجئے۔‘‘
(حضرت جنیدؒ اپنے شیخ کو ’’چچا‘‘ کہہ کر پُکارتے تھے گو کہ وہ ان کے نسبی چچا نہیں تھے۔)

حضرت شیخ حارث محاسبیؒ نے ایک نظر اپنے شاگرد کی طرف دیکھا اور فرمایا:
’’بہتر ھے۔‘‘ یہ کہہ کر اُن کے گھر تشریف لے آئے۔
حضرت جنید بغدادیؒ نے شیخ کے سامنے دستر خوان بچھایا اور پُرتکلف کھانا رکھ دیا۔
اتفاق سے گزشتہ رات پڑوس میں شادی تھی اور یہ کھانا وھیں سے آیا تھا۔
حضرت شیخ حارث محاسبیؒ نے ایک لقمہ لیا اور اپنے منہ میں رکھ لیا۔ حضرت جنید بغدادیؒ نے حیرت سے دیکھا کہ حضرت شیخ حارثؒ نے کئی بار اس لقمے کو منہ میں گھمایا اور پھر دفعتاً دستر خوان چھوڑ کر گھر سے باھر تشریف لے گئے۔
حضرت جنید بغدادیؒ شیخ کے پیچھے پیچھے تھے۔ حضرت حارث محاسبیؒ نے دروازے سے نکل کر ایک گوشے میں وہ لقمہ اُگل دیا اور خاموشی کے ساتھ چلے گئے۔
حضرت جنید بغدادیؒ میں اتنی ھمت نہیں تھی کہ وہ شیخ سے اُن کے طرز عمل کے بارے میں کچھ دریافت کر سکیں۔
دو چار دن بعد جب خلوت میسر آئی، حضرت جنید بغدادیؒ نے اُستاد محترم کو اس روز کا واقعہ یاد دلایا۔



حضرت شیخ حارث محاسبیؒ نے جواب میں فرمایا:
’’ اس دن میں فاقے سے تھا، میں نے چاھا کہ کچھ کھا کر تمہارا دل خوش کر دوں، مگر خُدا نے مجھ پر ایک خاص کرم فرمایا ھے کہ اگر غذا کے کسی لقمے میں کسی قسم کا شبہ ھو تو وہ میرے حلق سے نہیں اًترتا۔ یہی وجہ تھی کہ میں تمہارا دیا ھُوا کھانا نہیں کھا سکا۔‘‘
اس کے بعد حضرت شیخ حارث محاسبیؒ نے اپنے شاگرد سے پوچھا: ’’وہ کھانا کہاں سے آیا تھا؟‘‘
حضرت جنید بغدادیؒ نے شرمسار انداز میں عرض کیا: ’’دراصل وہ کھانا پڑوسی نے بھیجا تھا۔‘‘
حضرت شیخ حارثؒ نے فرمایا: ’’مجھے اسی وقت خیال آیا تھا کہ یہ کھانا تمہارے گھر کا نہیں ھو سکتا۔‘‘

حضرت جنید بغدادیؒ نے شیخ کو اپنی طرف متوجہ پا کر درخواست کی: ’’آپ اس روز بغیر کھانا کھائے تشریف لے آئے تھے، اگر آج مجھے سعادت بخشیں تو بڑی عنایت ھو گی۔‘‘
حضرت جنیدؒ نے محسوس کر لیا تھا کہ شیخ آج بھی فاقے سے ھیں۔ اسی لئے آپ نے حضرت حارث محاسبیؒ سے گھر چلنے کی التجا کی تھی۔
حضرت شیخؒ فوراً آمادہ ھو گئے، مگر اتفاق سے اس روز حضرت جنید بغدادیؒ کے یہاں سوکھی روٹی کے سِوا کچھ نہیں تھا۔ آپ کو بہت خفت محسوس ھوئی، لیکن شیخؒ کے بھوکے ھونے کے خیال سے آپ نے وھی خشک روٹی پیش کر دی۔
اس وقت حضرت جنید بغدادیؒ کے تعجب کی انتہا نہ رھی، جب حضرت شیخ حارثؒ نے وہ سوکھی روٹی بڑے ذوق و شوق کے ساتھ کھائی اور پھر بڑے پر جوش لہجے میں فرمایا:
’’جب کسی فقیر کی دعوت کرنی ھو تو ایسی ھی چیز پیش کیا کرو۔‘‘

یہی وہ مرد جلیل تھے، جن کی صحبتوں سے حضرت جنید بغدادیؒ تین سال تک فیض یاب ھوئے۔

حضرت شیخ حارث محاسبیؒ کا انتقال 234ھ میں ھُوا۔ اس وقت حضرت جنید بغدادیؒ کی عمر مبارک اٹھائیس سال کے قریب تھی۔

No comments:

Post a Comment