SAIFI MEDIA

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

تازہ ترین

عالمِ امر اور عالمِ خلق

عالمِ امر

عالم امر سے مراد ترکیب عناصر خالی جن کو صرف کن کے اشارے سے پیدا کیا گیا ہے۔ عالم امر کا اطلاق امر کن سے پیدا ہونے والی تمام

مخلوقات  پر بھی ہوتا ہے جیسے انسانی روحیں لطائف مجردہ عالم امر  عرش کے اوپر ہے۔ یہ عالم امر کے پانچوں لطائف یعنی قلب ، روح ، سر ، خفی ، اخفیٰ  کی اصل جڑ عرش کے اوپر ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے عالم امر  کے ان پانچوں لطائف کو چند جگہ انسان کے جسم میں امانت رکھ دیا ہے



تا کہ انسان ذکر ِ الٰہی کے ذریعہ ان پانچ لطائف کے کمالات سے فیض یاب ہو سکے  اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکے۔ عالمِ امر کو عالم ِ غیب، عالم ارواح ، عالم لاہوت  اور عالم حیرت سے بھی یاد کیا جاتا ہے ۔ ان سب کے مجموعے کو عالم مجردہ ذات بھی کہا جاتا ہے ۔  

عالَم خلق




مادہ عناصر اربعہ سے پیدا ہونے والی مخلوق کو عالم خلق سے یاد کیا کرتے ہیں ۔ جیسے فلکیات و ارضیات وغیرہ یہ پانچوں کا لطائف نفس ، پانی ، آگ اور مٹی سے مرکب ہیں علم خلق عرش کے نیچے سے لے کر تحت الثری تک ہے ۔ عالم خلق کے پانچوں لطائف کی جڑ عالم امر کے پانچوں لطائف ہیں ۔ یعنی نفس کی جڑ قلب ، ہوا کی جڑ روح ، پانی کی جڑ سر ، آگ کی جڑ خفی  اور خاک کی جڑ اخفٰی ہے ۔عالم خلق کو عالم اسباب ، عالم اجسام ، عالم شہادت، عالم ناسوت کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔

No comments:

Post a Comment