SAIFI MEDIA

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

تازہ ترین

آخوندزادہ سیف الرحمن

آخوند زادہ سیف الرحمن مبارک سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ، شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی کی ذات سے منسوب طریقہ کے ایک اسلامی مذہبی اور روحانی رہنما تھے، جن کو عموما حضور مبارک سرکار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

تاریخ پیدائش

ولادت بروز سومواربمطابق 20 محرم الحرام 1344ھ اور عیسوی سال کے اعتبار سے 10اگست1925ءمیں ہوئی ( یہ تاریخ آپ کے صاحبزادہ احمدسعید یار صاحب نے لکھوائی) جبکہ درۃ البیان سیرت حضرت آخوند زادہ سیف الرحمٰن کے مطابق1349ھ بمطابق عیسوی 1930بنتی ہے افغانستان کے صوبہ ننگر ہار کے ضلع کوٹ، تحصیل قلعہ وال، گاؤں باباکلی میں ہوئی جو جلال آباد سے تقریباً 20 کلو میٹر ہے۔[2]۔السیف الصارم انہی کے نام سے منسوب اور سلسلہ سیفیہ کا نمائندہ ماہنامہ ہے

القاب و خطابات

مام الشریعت، شیخ الطریقت، مقتدائے اہل حقیقت، معدن معرفت، رہنمائے مذہب اہل سنت، صاحب حُجّتِ قاہرہ، مؤیّد مِلّتِ طاہرہ، مجمع السعادات، مقتدائے صوفیاں، پیشوائے عارفاں، اعلم العلماء، افضل الفضلا، اکمل الکملا، امام العرفاء، شیخ الفقراء، امام العارفین، شیخ السالکین، ، سلطان المتقین، حامیِ دینِ متین، نور بخش قلوبِ مومنین، زہد و اتقا میں یگانہ روزگار اور یکتائے زمانہ، فضیلت پناہ، حقیقت آگاہ، علم و عمل کے شہنشاہ، مجدد عصر رواں، قیوم زماں، محبوب سبحاں

بانی سلسلہ

آپ تصوف میں سلسلہ سیفیہ کے بانی ہیں جو اہلسنت والجماعت کے حنفی مکتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کئی غیر مسلموں نے آپ کی تبلیغ سے اسلام قبول کیا۔ان کے نام کی نسبت سے ان کے پیرو کاروں کو سیفی کہا جاتا ہے (سیفی) وہ سلسلہ تصوف ہے جس میں اتباع سنت کی پابندی پربہت زور دیا جاتا ہے جبکہ لطائف جیسے قلب، روح، سر، خفی، اخفا کی تعلیمات دوران میں ذکر خفیوجد کی کیفیات  بے اختیاری میں ایسی کیفیات کا ظاہر ہونا جس سے جسم کانپتا ہے مختلف آوازیں نکلتی ہیں اس سلسلہ کی خاص علامات ہیں۔ لاکھوں مریدین، ہزاروں خلفاء اور اولاد مبارکہ آج بھی سلسلہ سیفیہ کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں۔ ان کے زمانے کے بڑے بڑے اکابرین اہلسنت نے ان کی مدح سرائی فرمائی اور آپ کے علم و اخلاص کو سراہا



آبا و اجداد

آپ کے والدکانام حافظ قاری محمد سرفراز خان ہے۔ دادا کا نام محمد حیدر خان اورپردادا کا نام محمد علی باباہے۔ آپ کا تعلق پشتونوں کے معزز قبیلہ مہمند سے ہے۔ مہمند قبائل افغانستان اور پاکستان میں ڈیورنڈ لائن کے دونوں طرف آباد ہیں۔ پاکستان کے مشہور و معروف قبائلی علاقے مہمند ایجنسی، شبقدراور ضلع چارسدہ کے کچھ علاقوں میں آج بھی مہمند قبائل آباد ہیں جبکہ ڈیورنڈلائن کے اس پار افغانستان میں بھی ننگر ہار کے اکثر علاقوں میں مہمند قبائل بستے ہیں۔

قبیلہ

آپ مہمند قبائل کی ذیلی شاخ موسیٰ خیل سے تعلق رکھتے ہیں آپ کا خاندان اپنے علاقے کے اہل دین، صاحب ثروت اور اعلیٰ حیثیت کا مالک ہے۔ جس کے پاس قبیلے کی ذیلی شاخ موسیٰ خیل کی سربراہی بھی ہے۔

گاؤں کی وجہ تسمیہ

آپ کے جد امجد پردادا محمد علی بابا کے نام کی وجہ سے گاوں کا نام باباکلی پڑ گیا اور آپ کی اولاد کی کثرت اور جائداد و ثروت کی بنیاد پر علاقے کے اس گاؤں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیاجسے بابا کلی پائیں (نیچے والا)اور باباکلی بالا(اوپر والا)کے ناموں سے پہچانا جاتا ہے۔ آپ کے پردادا کی وفات کے بعد آپ کے دادا محمد حیدر خان اپنے قبیلے کی ذیلی شاخ کے سربراہ بن گئے۔

حصول علم کے مقامات

آپ نے افغانستان و ہندوستان (موجودہ پاکستان)کے مختلف شہروں میں سفر کرکے دینی علوم کی تحصیل فرمائی آپؒ نے 16بڑے نقلیہ و عقلیہ علوم، ترجمہ قرآن مجید و تفسیر، علم صرف ونحو، علم فقہ، اصول علم معانی وبیان علم ریاضی و تاریخ علم حکمت و فلسفہ علم منطق و عقائد علم تفسیر، اصول تفسیر علم حدیث و اصول حدیث میں استفادہ اور مکمل دسترس حاصل کی۔[8] جن علاقوں میں اس وقت آپ علم حاصل کرنے کے لیے تشریف لے گئے درۃ البیان سیرت حضرت آخوند زادہ سیف الرحمن کے مطابق مندرجہ ذیل ہیں

ماشو خیل یہ پشاور کے مضافات میں باڑہ کی طرف واقع ہے۔

شہاب خیل یہ باڑہ کے جنوب میں واقع ہے۔

بھانہ ماڑی یہ پشاور شہر کے جنوب میں ہے۔

تہکال پایاں یہ پشاور کے مغرب میں تھا جو اب پشاور شہر کا حصہ بن چکا ہے۔

چار پریزہ یہ پشاور شہر سے شمال مغرب میں واقع ہے جو پشاور سے چند میل دور ہے۔

مازو کلی یہ مردان شہر کے مشرق میں چند میل کے فاصلے پرموجود ہے

اساتذہ کرام کے اسمائے گرامی

آپ کے پہلے استادآپ کے والد حافظ قاری محمد سرفراز خان تھے ان کے علاوہ اساتذہ کرام کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں

مولانا محمد آدم خان (امازو گڑھی)

شیخ القرآن محمد اسلام بابا صاحب( بابا کلی کوٹ)

شیخ القرآن والحدیث مولانا ولید صاحب صاحب المعروف وزیر ملّا صاحب ؒ( کوٹ حیدر خیل)

مولوی محمد اسلم صاحب ( کوٹ حیدر خیل)

مولوی محمد فقیر صاحب سرے غنڈے (فرید کلا جات)

مولانا محمد حسین صاحب(مترالی گاؤں)

مولانا عبد الباسط المعروف باچہ لالہ صاحب (بڑے بھائی جن سے آپ نے بوستاں وغیرہ پڑھی)

سید عبد اﷲ شاہ صاحب ( سید احمد خیل گاؤں )

مولانا مولوی صاحب لوگر باغ سری پایا ن صاحب(ضلع قندوز)۔

بیعت

آپ نے اپنے وقت کے شیخ شاہ رسول طالقانی کی بیعت کی۔ مرشد کے وصال کے بعد ان کےخلیفہ اعظم مولانا محمد ہاشم سمنگانی کے ہاتھ پر بیعت فرما کر ان کی زیر تربیت رہے۔ مرشد نے آپ کی تربیت فرما کر خلافت مطلقہ عنایت فرمائی۔ محمد ہاشم سمنگانی نے آخوندزادہ سیف الرحمن کے متعلق فرمایا کہ:
” آخوندزادہ مثل سورج کے ہیں جس طرف بھی جائیں گے، تاریکی کو ختم کریں گے‘‘۔ حضرت مرشد کامل مکمل نے خلافت عنایت فرمائی تو خلافت نامہ پر لکھا ’’جو (آخوندزادہ مبارک) کا مقبول ہے وہ میرا بھی مقبول ہے اور جو ان کا مردود ہے وہ میرا بھی مردود ہے

عقائد اپنی زبان سے

کئی مرتبہ ان کے اپنے الفاظ یہ تھے ’’کہ بحمدﷲ میں اﷲ کا عاجز بندہ ہوں کہ تمام سرزمین پر اپنے آپ سے بااعتبار ذوق کوئی مجھے ادنیٰ ترین نظر نہیں آتا اور خاتم النبیین حضرت محمد رسول اﷲﷺ کا امتی ہوں اور حضور اکرمﷺ کی ختم نبوت پر اعتقاد رکھتا ہوں اور فروع و فقہ میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کوفی رحمتہ اﷲ علیہ کا مقلد ہوں اور اصول و عقائد میں اہل سنت و جماعت کے عظیم پیشوا حضرت امام ابو منصور ماتریدی رحمتہ اﷲ علیہ کا تابع ہوں اور تصوف و طریقت میں حضرت خواجہ بزرگ محمد بہا الدین شاہ نقشبند رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت الشیخ سیدنا عبد القادر جیلانی رحمتہ اﷲ علیہ، حضرت شیخ شہاب الدین الصدیقی سہروردی رحمتہ اﷲ علیہ اور حضرت خواجہ سید معین الدین اجمیری رحمتہ اﷲ علیہ کی تعلیمات کا تابع اور انہی بزرگان دین کا بالواسطہ مرید ہوں ‘‘

چار سلاسل طریقت

آپ چاروں سلسلہ ہائے تصوف نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ اور سہروردیہ کے باقاعدہ خلافت و اجازت یافتہ ہیں اور ان سلاسل کے تمام اسباق اپنے مریدین کو درجہ بدرجہ سکھاتے ہیں اور خلافت مطلق انہی خلفا ءکو ملتی ہے جو ان چاروں سلاسل کے تمام اسباق مکمل کر لیں۔ ان سلاسل اربعہ میں وہ خلفاء جن کو باقاعدہ طور پرسند خلافت جاری کی چا چکی ہے ان کی تعداد 40 ہزار سے متجاوزہے۔

خلفائےکرام

حضور مبارک کے خلفاء بہت سارے ممالک سے تعلق رکھنے والے ہیؔں جن میں خراسان۔افغانستان۔ ازبکستان۔ ایران و عرب ممالک اور پاکستان و آزاد جموں و کشمیر میں دین و روحانیت کے لیے کام کر رہے ہیں۔ یہاں صرف پاکستان میں کچھ مشہور خلفائے کرام کے نام درج ذیل ہیں۔

مفتی غلام فرید ھزاروی۔ پنجاب
مولانا محمد شاہ روحانی صاحب۔ پشاور
مولانا سید نور علی شاہ گیلانی۔ پشاور
صوفی آزاد خان۔ پشاور
معمور حبیب الرحمن۔ پشاور
ڈاکٹر مفتی محمد عابد حسین رضوی۔ لاہور
میاں محمد حنفی سیفی۔ راوی ریان لاہور
پیر سید عمیر علی شاہ زنجانی۔ لاہور
سید عمر آغا۔ لاہور
صوفی گلزار احمد۔ لاہور
ڈاکٹر کرنل محمد سرفراز اسلام آباد
میجر غلام محمد صاحب ۔ساہیوال
میجر محمد یعقوب۔ چکوال
صوفی عبدالشکور۔ راولپنڈی
صوفی غلام مرتضی سیفی۔ گجرات
صوفی مزمل صاحب۔ فیصل آباد
صوفی عبد الحمید۔ فیصل آباد
سید عمر دراز صاحب۔کراچی۔ سندھ
مولانا سید احمد علی شاہ۔ کراچی
حاجی صوفی نسیم اللہ۔ ڈیرہ غازی خاں
مولانا لعل رحمن۔ سرحد
مولانا محمد امین اللہ صاحب
مولانا جبرائیل صاحب۔
مولانا سید جعفر پاچا صاحب۔ اٹک
صوفی عبدالقیوم درویش ہری پور سرحد
مولانا محمد امین۔المعروف وزیر صاحب۔ سرحد
مولانا عبدالشکور۔کوئٹہ بلوچستان
صوفی جان محمد صاحب۔ کوئٹہ
مولانا محمد وسیم صاحب مردان
مولانا ضیاء اللہ صاحب۔باجوڑاایجنسی
پیر رحمت خان۔سرحد
مفتی احمد الدین توگیری
مولانا فیض اللہ۔وزیرستان
مفتی بشیر احمد صاحب۔گجرات
ڈاکڑ سید عبدالاحد شاہ۔سوات
صوفی عبدالمنان صاحب۔جہلم
سید افضال حسین شاہ۔ شیخوپورہ
ڈاکر ریاض احمد۔لاہور
صوفی محمد عثمان و صوفی عبدالخالق۔ رحیم یار خان
مولانا سرفراز احمد۔ قصور
مولانا محمد صادق۔ نارووال۔

صاحبزادگان

علامہ پیر سعید حیدری سیفی
شیخ الحدیث محمد حمید جان سیفی
علامہ قاری پیر حبیب جان سیفی
علامہ پیر احمد سعید یار سیفی
احمد حسین پاچاسیفی
عبید الرحمن پاچا سیفی
احمد حسن پاچا سیفی
محمد محسن پاچاسیفی
سرکار نجیب اللہ سیفی
احمد حسن سیفی
حبیب اللہ سیفی
محمد محسن سیفی
حسین اللہ سیفی

وصال

آخوند زادہ سیف الرحمن مبارک کی وفات 27 جون بروز اتوار 2010ء بمطابق 15 رجب 1431ھ کو ہوئی. آپ کا مزار مرکزی آستانہ عالیہ نقشبندیہ سیفیہ، فقیر آباد شریف، لکھو ڈھیر، لاہور، صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہے۔

No comments:

Post a Comment