SAIFI MEDIA

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

تازہ ترین

علی ابن ابی طالب

ابو الحسن علی بن ابی طالب ہاشمی قُرشی (15 ستمبر 601ء – 29 جنوری 661ء)[4][5] پیغمبر اسلام محمد کے چچا زاد اور داماد تھے۔ عثمان بن عفان کے بعد چوتھے خلیفہ راشد کے طور پر سنہ 656ء سے 661ء تک حکمرانی کی، لیکن انہیں شیعہ مسلمانوں کے ہاں خلیفہ بلا فصل، پہلا امام اور وصی رسول اللہ سمجھا جاتا ہے۔

ابو طالب[6] اور فاطمہ بنت اسد[7] کے ہاں پیدا ہوئے۔ روایات کے مطابق علی، مقدس ترین اسلامی شہر مکہ میں کعبہ کے اندر جائے حرمت میں پیدا ہوئے تھے۔ علی بچوں میں پہلے اسلام قبول کرنے والے تھے، اور کچھ مصنفین کے مطابق پہلے مسلم تھے۔[12] ابتدائی دور میں علی نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت کی اور ابتدائی مسلم برادری کی جانب سے لڑی گئی تقریباً تمام جنگوں میں حصہ لیا۔ مدینہ ہجرت کرنے کے بعد انہوں نے پیغمبر اسلام کی بیٹی فاطمہ زہرا سے شادی کی۔[7] خلیفہ عثمان بن عفان کے قتل کے بعد سنہ 656ء میں صحابہ نے انہیں خلیفہ منتخب کیا تھا۔[14][15] علی نے اپنے دور خلافت میں خانہ جنگیاں دیکھیں اور سنہ 661ء میں جب وہ جامع مسجد کوفہ میں نماز پڑھ رہے تھے عبد الرحمن بن ملجم نامی ایک خارجی نے ان پر حملہ کر دیا اور وہ دو دنوں بعد شہید ہو گئے



علی شیعوں اور سنیوں، دونوں کے ہاں سیاسی طور پر اور روحانی طور پر اہم ہیں۔[19] فرقوں کے نزدیک علی کے متعلق متعدد سوانح عمریاں، ایک دوسرے کے نزدیک نادرست ہیں، لیکن وہ اس بات پر تمام متفق ہیں کہ وہ پارسا مسلم اور قرآن و سنت پر سختی سے کاربند تھے۔[4] سنی علی کو چوتھا اور آخری خلیفہ راشد سمجھتے ہیں جبکہ شیعہ واقعہ غدیر خم کی تاویل کر کے انہیں محمد کے بعد پہلا اِمام مانتے ہیں۔ شیعوں کا یہ بھی ماننا ہے کہ علی اور دیگر شیعہ ائمہ (اہل بیت سے تمام) بھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی جانشین ہیں۔ اسی اختلاف پر امت مسلمہ کو شیعہ اور سنی فرقوں میں تقسیم کیا تھا. علی نے مختلف غیر مسلم تنظیموں کی جانب سے پزیرائی حاصل کی ہے جیسے کہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے لیے عالمی تنظیم نے ان کے طرز حکمرانی اور سماجی انصاف کی تعریف کی ہے۔

نام، نسب، خاندان

علی نام، ابوالحسن اورابوتراب کنیت، حیدر (شیر)لقب، [26]والد کا نام ابوطالب اوروالدہ کا نام فاطمہ تھا، پوراسلسلہ نسب یہ ہے، علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مروہ بن کعب بن لوی، چونکہ ابوطالب کی شادی اپنے چچا کی لڑکی سے ہوئی تھی اس لیے حضرت علی ؓ نجیب الطرفین ہاشمی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی تھے۔ خاندانِ ہاشم کو عرب اورقبیلہ قریش میں جو وقعت وعظمت حاصل تھی وہ محتاجِ اظہار نہیں، خانہ کعبہ کی خدمت اوراس کا اہتمام بنوہاشم کا مخصوص طغرائے امتیاز تھا اوراس شرف کے باعث ان کو تمام عرب میں مذہبی سیادت حاصل تھی۔ حضرت علی مرتضی ؓ کے والد ابو طالب مکہ کے ذی اثر بزرگ تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی آغوش شفقت میں پرورش پائی تھی اوربعثت کے بعد ان ہی کے زیر حمایت مکہ کے کفرستان میں دعوتِ حق کا اعلان کیا تھا، ابو طالب ہر موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرتے رہے اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے پنجہ ظلم ستم سے محفوظ رکھا، مشرکین قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پناہی اورحمایت کے باعث ابوطالب اوران کے خاندان کو طرح طرح کی تکلیفیں پہنچائیں، ایک گھاٹی میں ان کو محصور کر دیا، کاروبار اورلین دین بند کر دیا، شادی بیاہ کے تعلقات منقطع کرلئے، کھانا پینا تک بند کر دیا، غرض ہر طرح پریشان کیا، مگر اس نیک طینت بزرگ نے آخری لمحہ حیات تک اپنے عزیز بھتیجے کے سر سے دستِ شفقت نہ اُٹھایا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دلی آرزو تھی کہ ابو طالب کا دل نورِ ایمان سے منور ہوجائے اور انہوں نے اپنی ذات سے دنیا میں مہبط وحی(صلی اللہ علیہ وسلم )کی جو خدمت وحمایت کی ہے اس کے معاوضہ میں ان کو نعیم فردوس کی ابدی اورلامتناہی دولت حاصل ہو، اس لیے ابو طالب کی وفات کے وقت نہایت اصرار کے ساتھ کلمہ توحید کی دعوت دی، ابوطالب نے کہا عزیز بھتیجے! اگر مجھے قریش کی طعنہ زنی کاخوف نہ ہوتا تو نہایت خوشی سے تمہاری دعوت قبول کرلیتا، [27]سیرت ابن ہشام میں حضرت عباس ؓ سے یہ بھی روایت ہے کہ نزع کی حالت میں کلمۂ توحید ان کی زبان پر تھا، مگر یہ روایت کمزور ہے، بہر حال ابو طالب نے گو علانیہ اسلام قبول نہیں کیا، تاہم انہوں نے حضور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی جس طرح پرورش وپرداخت کی اورکفار کے مقابلہ میں جس ثبات اور استقلال کے ساتھ آپ کی نصرت وحمایت کا فرض انجام دیا، اس کے لحاظ سے اسلام کی تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ شکر گزاری اوراحسان مندی کے ساتھ لیا جائے گا۔ حضرت علی ؓ کی والدہ حضرت فاطمہ ؓ بنت اسد نے بھی حضرت آمنہ ؓ کے اس یتیم معصوم کی ماں کی طرح شفقت ومحبت سے پرورش کی، مستند روایات کے مطابق وہ مسلمان ہوئیں اورہجرت کرکے مدینہ گئیں، ان کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفن میں اپنی قمیص مبارک پہنائی اور قبر میں لیٹ کر اس کو متبرک کیا، لوگوں نے اس عنایت کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ ابو طالب کے بعد سب سے زیادہ اسی نیک سیرت خاتون کاممنونِ احسان ہوں۔ [28] حضرت علی ؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے دس برس پہلے پیدا ہوئے تھے، ابو طالب نہایت کثر العیال اورمعاش کی تنگی سے نہایت پریشان تھے، قحط وخشک سالی نے اس مصیبت میں اور بھی اضافہ کر دیا، اس لیے رحمۃاللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے محبوب چچا کی عسرت سے متاثر ہوکر حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ ہم کو اس مصیبت وپریشان حالی میں چچا کا ہاتھ بٹانا چاہیے؛چنانچہ حضرت عباس ؓ نے حسب ارشاد جعفر کی کفالت اپنے ذمہ لی اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ انتخاب نے علی ؓ کو پسند کیا؛چنانچہ وہ اس وقت سے برابر حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ [29]

اسلام

حضرت علی ؓ کاسن ابھی صرف دس سال کا تھا کہ ان کے شفیق مربی کو دربارِ خداوندی سے نبوت کا خلعت عطاہوا، چونکہ حضرت علی ؓ آپ کے ساتھ رہتے تھے اس لیے ان کواسلام کے مذہبی مناظر سب سے پہلے نظر آئے؛چنانچہ ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو مصروفِ عبادت دیکھا، اس مؤثر نظارہ نے اثر کیا، طفلانہ استعجاب کے ساتھ پوچھا، آپ دونوں کیا کر رہے تھے؟ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے منصبِ گرامی کی خبردی اورکفر وشرک کی مذمت کرکے توحید کی دعوت دی، حضرت علی ؓ کے کان ایسی باتوں سے آشنا نہ تھے، متحیر ہوکر عرض کیا، اپنے والد ابوطالب سے دریافت کروں اس کے متعلق؟چونکہ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی اعلان عام منظور نہ تھا، اس لیے فرمایا کہ اگر تمہیں تامل ہے توخود غورکرو؛لیکن کسی سے اس کا تذکرہ نہ کرنا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش سے فطرت سنورچکی تھی، توفیق الہیٰ شامل ہوئی، اس لیے زیادہ غور و فکر کی ضرورت پیش نہ آئی اوردوسرے ہی دن بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوکر مشرف باسلام ہو گئے۔ اس بارے میں اختلاف ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے بعد سب سے پہلے کون ایمان لایا، بعض روایات سے حضرت ابوبکر ؓ کی، بعض سے حضرت علی ؓ کی اولیت ظاہر ہوتی ہے اوربعضوں کے خیال میں حضرت زید بن حارثہ ؓ کا ایمان سب پر مقدم ہے؛لیکن محققین نے ان مختلف احادیث میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ ؓ عورتوں میں، حضرت ابوبکر صدیق ؓ مردوں میں، حضرت زید بن حارثہ ؓ غلاموں اور حضرت علی ؓ بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے۔

مکہ کی زندگی

اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علی ؓ کی زندگی کے تیرہ سال مکہ معظمہ میں بسر ہوئے، چونکہ وہ رات دن سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے مشورہ کی مجلسوں میں تعلیم وارشاد کے مجمعوں میں، کفارو مشرکین کے مباحثوں میں اورمعبودِحقیقی کی پرستش وعبادت کے موقعوں پر، غرض ہر قسم کی صحبتوں میں شریک رہے۔ حضرت عمر ؓ کے اسلام قبول کرنے سے پہلے سرزمین مکہ میں مسلمانوں کے لیے علانیہ خدا کا نام لینا اور اس کی عبادت وپرستش کرنا تقریباً ناممکن تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چھپ چھپ کر اپنے معبود حقیقی کی پرستش فرماتے، حضرت علی ؓ بھی ان عبادتوں میں شریک ہوتے، ایک دفعہ وادی نخلہ میں حسب معمول مصروفِ عبادت تھے کہ اتفاق سے اس طرف ابو طالب کا گزرہوا، اپنے معصوم بھتیجے اورنیک بخت بیٹے کو مصروفِ عبادت دیکھ کر پوچھا کیا کرتے ہو؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کلمہ حق کی دعوت دی تو کہنے لگے کہ اس میں کوئی ہرج نہیں ؛لیکن مجھ سے نہیں ہوسکتا۔ [30]

انتظام دعوت

منصب نبوت عطا ہونے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین برس تک علانیہ دعوتِ اسلام کی صدا بلند نہیں فرمائی؛بلکہ پوشیدہ طریقہ پر خاص خاص لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے رہے، چوتھے سال کے اعلان عام اور سب سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں میں اس کی تبلیغ کا حکم ہوا؛چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی: وَاَنْذِرْعَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبیْنَ “اپنے قریبی اعزہ کو (عذب ِالہی سے) ڈراؤ” سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکم کے موافق کوہِ صفاپر چڑھ کر اپنے خاندان کے سامنے دعوتِ اسلام کی صدا بلند کی ؛لیکن مدت کا زنگ ایک دن کے صیقل سے نہیں دور ہوسکتا تھا، ابولہب نے کہا :تَبًّالَکَ، اسی لیے تو نے ہم لوگوں کو جمع کیا تھا؟اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ پھر اپنے خاندان میں تبلیغ اسلام کی کوشش فرمائی اورحضرت علی ؓ کو انتظام دعوت کی خدمت پر مامور کیا۔ حضرت علی ؓ کی عمر اس وقت مشکل سے چودہ پندرہ برس کی تھی ؛لیکن انہوں نے اس کمسنی کے باوجود نہایت اچھا انتظام کیا، دسترخوان پر بکرے کے پائے اوردودھ تھا، دعوت میں کل خاندان شریک تھا جن کی تعداد چالیس تھی، حضرت حمزہ ؓ، عباس ؓ، ابولہب اور ابوطالب بھی شرکاء میں تھے، لوگ کھانے سے فارغ ہوچکے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُٹھ کر فرمایا:‘‘ یا بنی عبدالمطلب:خداکی قسم میں تمہارے سامنے دنیا وآخرت کی بہترین نعمت پیش کرتا ہوں، بولو تم میں سے کون اس شرط پر میرا ساتھ دیتا ہے کہ وہ میرا معاون و مددگار ہوگا؟ اس کے جواب میں سب چپ رہے، صرف شیر خدا علی مرتضی کی آواز بلند ہوئی کہ گو میں عمر میں سب سے چھوٹا ہوں اور مجھے آشوب چشم کا عارضہ ہے اور میری ٹانگیں پتلی ہیں، تاہم میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یاور اوردست وبازو بنوں گا۔’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تم بیٹھ جاؤاورپھر لوگوں سے خطاب فرمایا؛لیکن کسی نے جواب نہ دیا، حضرت علی ؓ پھر آٹھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دفعہ بھی ان کو بٹھا دیا، یہاں تک کہ جب تیسری دفعہ بھی اس بارِگراں کا اٹھانا کسی نے قبول نہیں کیا تو اس مرتبہ بھی حضرت علی ؓ نے جاں بازی کے لہجہ میں انہی الفاظ کا اعادہ کیا تو ارشاد ہوا کہ بیٹھ جاؤ تو میرا بھائی اورمیرا وارث ہے۔” [31]

ہجرت

بعثت کے بعد تقریباً تیرہ برس تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی گھاٹیوں میں اسلام کی صدا بلند کرتے رہے؛لیکن مشرکین قریش نے اس کا جواب محض بغض وعناد سے دیا اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائیوں پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے، رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثاروں کو اسیر پنجۂ ستم دیکھ کر آہستہ آہستہ ان سب کو مدینہ چلے جانے کا حکم دیا؛چنانچہ چند نفوسِ قدسیہ کے علاوہ مکہ مسلمانوں سے خالی ہو گیا، اس ہجرت سے مشرکین کو اندیشہ ہوا کہ اب مسلمان ہمارے قبضہ اقتدار سے باہر ہو گئے ہیں اس لیے بہت ممکن ہے کہ وہ اپنی قوت مضبوط کرکے ہم سے انتقام لیں، اس خطرہ نےان کو خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کا دشمن بنادیا؛چنانچہ ایک روز مشورہ کرکے وہ رات کے وقت کاشانۂ نبوت کی طرف چلے کہ مکہ چھوڑنے سے پہلے ذات اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے رخصت کر دیں؛لیکن مشیت الہی تو یہ تھی کہ ایک دفعہ تمام عالم حقانیت کے نور سے پرنور اورتوحید کی روشنی سے شرک کی ظلمت کا فورہوجائے، اس مقصد کی تکمیل سے پہلے آفتاب رسالت کس طرح غروب ہوسکتا ہے، اس لیے وحی الہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کے ارادوں کی اطلاع دیدی اورہجرتِ مدینہ کا حکم ہوا، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ مشرکین کو شبہ نہ ہو، حضرت علی ؓ مرتضیٰ کو اپنے فرشِ اطہر پر استراحت کا حکم دیا اورخود حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔

فدیت وجان نثاری کا ایک عدیم المثال کارنامہ

حضرت علی ؓ کی عمر اس وقت زیادہ سے زیادہ بائیس تئیس برس کی تھی، اس عنفوانِ شباب میں اپنی زندگی کو قربانی کے لیے پیش کرنا فدویت وجاں نثاری کا عدیم المثال کارنامہ ہے، رات بھر مشرکین کا محاصرہ قائم رہا اوراس خطرہ کی حالت میں یہ نوجوان نہایت سکون واطمینان کے ساتھ محو خواب رہا، غرض تمام رات مشرکین قریش اس دھوکا میں رہے کہ خود سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم ہی استراحت فرما ہیں، صبح ہوتے ہی اپنے ناپاک ارادہ کی تکمیل کے لیے اندر آئے؛لیکن یہاں یہ دیکھ کر وہ متحیرہوگئے کہ شہنشاہِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جاں نثار اپنے آقا پر قربان ہونے کے لیے سربکف سو رہا ہے، مشرکین اپنی اس غفلت پر سخت برہم ہوئے اورحضرت علی ؓ کو چھوڑ کر اصل مقصود کی تلاش وجستجو میں روانہ ہو گئے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد دو یا تین دن تک مکہ میں مقیم رہے اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق جن لوگوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کاروبار اور لین دین تھا، ان کے معاملات سے فراغت حاصل کی اور تیسرے یا چوتھے دن وطن کو خیر باد کہہ کر عازم مدینہ ہوئے، اس زمانہ میں حضور سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت کلثوم بن ہدم ؓ کے مہمان تھے اس لیے حضرت علی ؓ بھی انہی کے مکان میں جاکر روکش ہوئے، [32]رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مہاجرین میں باہم بھائی چارہ کرایا تو حضرت علی ؓ کو اپنا بھائی بنایا۔ [33]

تعمیر مسجد

مدینہ کا اسلام مکہ کی طرح بے بس ومجبورنہ تھا ؛بلکہ آزادی وحریت کی سرزمین میں تھا جہاں ہر شخص علانیہ خدائے واحد کی پرستش کرسکتا اوراحکام شرعیہ نہایت اطمینان کے ساتھ ادا کرسکتاتھا، مسلمانوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جاتی تھی، یہاں تک کہ ہجرت کے چھٹے یا ساتویں مہینہ سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مسجد تعمیر کرنے کا خیال پیدا ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بنیاد رکھی اور اپنے رفقا کے ساتھ خود اس کی تعمیر میں حصہ لیا، تمام صحابہ جوش کے ساتھ شریک کار تھے، حضرت علی ؓ اینٹ اورگارہ لالا کر دیتے تھے اوریہ رجز پڑھتے تھے: لایستوی من یعمر المساجدیدائب فیہ قائما وقاعداومن یری عن الغبار حائدا [34] “جو مسجد تعمیر کرتا ہے کھڑے ہوکر اوربیٹھ کر اس مشقت کو برداشت کرتا ہے اور جو گردوغبار کے باعث اس کام سے جی چراتا ہے وہ برابر نہیں ہوسکتے۔”

غزوہ ٔبدر

سلسلۂ غزوات میں سب سے پہلا معرکہ غزوہ ٔبدر ہے، اس غزوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تین سو تیرہ جان نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، آگے آگے دوسیاہ رنگ کے عَلم تھے، ان میں سے ایک حیدرکرار کے ہاتھ میں تھا، جب رزمگاہِ بدر کے قریب پہنچے تو سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو چند منتخب جان بازوں کے ساتھ غنیم کی نقل وحرکت کا پتہ چلانے کے لیے بھیجا، انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی اورمجاہدین نے مشرکین سے پہلے پہنچ کر اہم مقاموں پر قبضہ کر لیا، سترہویں رمضان جمعہ کے دن جنگ کی ابتداہوئی، قاعدہ کے موافق پہلے تنہا مقابلہ ہوا، سب سے پہلے قریش کی صف سے تین نامی بہادر نکل کر مسلمانوں سے مبازرطلب ہوئے، تین انصاریوں نے ان کی دعوت کو لبیک کہا اورآگے بڑھے، قریش کے بہادروں نے ان کا نام نسب پوچھا، جب یہ معلوم ہوا کہ دویثرب کے نوجوان ہیں تو ان کے ساتھ لڑنے سے انکار کردیااور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مقابلہ میں ہمارے ہمسر کے آدمی بھیجو، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے تین عزیزوں کے نام لیے، حمزہ ؓ، علی ؓ اور عبیدہ ؓ تینوں اپنے حریفوں کے لیے میدان میں آئے، حضرت علی ؓ نے اپنے حریف ولید کو ایک ہی وار میں تہ تیغ کر دیا، اس کے بعد جھپٹ کر عبیدہ ؓ کی مدد کی اوران کے حریف شیبہ کو بھی قتل کیا، مشرکین نے طیش میں آکر عام حملہ کر دیا، یہ دیکھ کر مجاہدین بھی نعرۂ تکبیر کے ساتھ کفار کے نرغہ میں گھس گئے اور عام جنگ شروع ہو گئی، شیر خدانے صفیں کی صفیں الٹ دیں اور ذوالفقارحیدری نے بجلی کی طرح چمک چمک کر اعدائے اسلام کے خرمن ہستی کو جلادیا، مشرکین کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمان مظفر ومنصوربے شمار مال غنیمت اورتقریباً ستر قیدیوں کے ساتھ مدینہ واپس آئے، مال غنیمت میں سے آ پ کو ایک زرہ ایک اونٹ اورایک تلوار ملی، [35]

حضرت فاطمہؓ سے نکاح

اسی سال یعنی ؁ 2ھ میں حضرت سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دامادی کا شرف بخشا یعنی اپنی محبوب ترین صاحبزادی سیدۃ النساء حضرت فاطمہ زہرا ؓ سے نکاح کر دیا۔ حضرت فاطمہ ؓ سے عقد کی درخواست سب سے پہلے حضرت ابوبکر ؓ اوران کے بعد حضرت عمر ؓ نے کی تھی؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، اس کے بعد حضرت علی ؓ نے خواہش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، تمہارے پاس مہراداکرنے کے لیے کچھ ہے؟ بولے ایک گھوڑے اورایک ذرہ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تو لڑائی کے لیے ہے البتہ ذرہ کو فروخت کردو، حضرت علی ؓ نے اس کو حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ چارسو اسی درہم میں بیچا اور قیمت لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ بازار سے عطر اورخوشبو خرید لائیں اور خود نکاح پڑھایا اوردونوں میاں بیوی پر وضو کا پانی چھڑک کر خیر وبرکت کی دعادی۔ [36]

رخصتی

نکاح کے تقریباً دس گیارہ ماہ بعد باقاعدہ رخصتی ہوئی، اس وقت تک حضرت علی ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اس لیے جب رخصتی کا وقت آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ایک مکان کرایہ پر لے لو؛چنانچہ حارث بن النعمان کا مکان ملا اورحضرت علی ؓ ملکہ جنت کو رخصت کراکے اس میں لے آئے۔ [37]

جہیز

حضرت سیدہ زہرا ؓ کو اپنے گھر سے جو جہیز ملا تھا اس کی کل کائنات یہ تھی، ایک پلنگ، ایک بستر، ایک چادر، دوچکیاں اورایک مشکیزہ، عجیب اتفاق ہے کہ یہی چیزیں حضرت فاطمہ ؓ کی زندگی تک ان کی رفیق رہیں اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ اس میں کوئی اضافہ نہ کرسکے۔

دعوت ولیمہ

حضرت علی ؓ کی زندگی نہایت فقیرانہ وزاہدانہ تھی، خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، ذاتی ملکیت میں صرف ایک اونٹ تھا جس کے ذریعہ سے اذخر(ایک قسم کی گھاس) کی تجارت کرکے دعوت ولیمہ کے لیے کچھ رقم جمع کرنے کا ارادہ تھا؛لیکن حضرت حمزہ ؓ نے حالت نشہ میں (اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی، بخاری میں مفصل واقعہ مذکور ہے) اس اونٹ کو ذبح کرکے کباب سیخ بنادیا، اس لیے اب اقلیم زہد کے تاجدار کے پاس اس رقم کے سوا جو ذرہ کی قیمت میں سے مہر ادا کرنے کے بعد بچ رہی تھی اور کچھ نہ تھی؛چنانچہ اسی سے دعوت ولیمہ کا سامان کیا جس میں کھجور، جو کی روٹی، پنیز اور ایک خاص قسم کا شوربہ تھا؛لیکن یہ اس زمانہ کے لحاظ سے پرتکلف ولیمہ تھا، حضرت اسماء ؓ کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں اس سے بہتر ولیمہ نہیں ہوا۔ [38]

غزوۂ احد

؁ 3 ھ میں اُحد کا معرکہ پیش آیا، شوال ہفتہ کے دن لڑائی شروع ہوئی اورپہلے مسلمانوں نے قلت تعداد کے باجود غنیم کو بھگادیا؛لیکن عقب کے محافظ تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھا کہ مشرکین پیچھے سے یکایک ٹوٹ پڑے، اس ناگہانی حملے سے مسلمانوں کے اوسان جاتے رہے، اسی حالت میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو چشم زخم پہنچا، دندانِ مبارک شہید ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خندق میں گرپڑے، [39] مشرکین ادھر بڑھے ؛لیکن حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے روکا اور اسی میں لڑتے لڑتے شہید ہوئے، اس کے بعد حیدر کرار ؓ نے بڑھ کر علم سنبھالا اور بے جگری کے ساتھ دادِ شجاعت دی، مشرکین کے علمبردار، ابوسعدبن ابی طلحہ نے مقابلہ کے لیے للکارا، شیر خدانے بڑھ کر ایسا ہاتھ مارا کہ فرشِ خاک پرتڑپنے لگا اوربدحواسی کے عالم میں برہنہ ہو گیا، حضرت علی ؓ کو اس کی بدحواسی اور بے بسی پر رحم آگیا اورزندہ چھوڑکر واپس آئے۔ مشرکین کا زور کم ہوا توحضرت علی چند صحابہ ؓ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہاڑ پر لے گئے، حضرت فاطمہ ؓ نے زخم دھویا اورحضرت علی ؓ نے ڈھال میں پانی بھر بھر کر گرایا، اس سے خون بند نہ ہوا تو حضرت فاطمہ ؓ نے چٹائی جلا کر اس کی راکھ سے زخم کا منہ بند کیا۔

بنونضیر

غزوہ احد کے بعد ؁ 4ھ میں بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کے باعث جلاوطن کیا گیا، حضرت علی ؓ اس میں بھی پیش پیش تھے اور علم ان ہی کے ہاتھ میں تھا۔

غزوۂ خندق

؁ 5ھ میں غزوۂ خندق پیش آیا اس میں کفار کبھی کبھی خندق میں گھس گھس کر حملہ کرتے تھے، ایک دفعہ سواروں نے حملہ کیا، حضرت علی ؓ نے چند جان بازوں کے ساتھ بڑھ کر روکا، سواروں کے سردار عمروبن عبدود نے کسی کو تنہا مقابلہ کی دعوت دی، حضرت علی ؓ نے اپنے کو پیش کیا، اس نے کہامیں تم کو قتل کرنا نہیں چاہتا، شیر خدانے کہا؛لیکن میں تم کو قتل کرنا چاہتا ہوں، وہ برہم ہوکر گھوڑے سے کود پڑا، اورمقابلہ میں آیا، تھوڑی دیر تک شجاعانہ مقابلہ کے بعد ذوالفقارحیدری نے اس کو واصل جہنم کیا، اس کا مقتول ہونا تھا کہ باقی سوار بھاگ کھڑے ہوئے، [40] کفار بہت دن تک خندق کا محاصرہ کیے رہے ؛لیکن بالآخر مسلمانوں کی اس پامردی اوراستقلال کے آگے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور یہ معرکہ بھی مجاہدین کرام کے ہاتھ رہا۔

بنو قریظہ

بنو قریظہ نے مسلمانوں سے معاہدہ کے باوجود ان کے مقابلہ میں قریش کا ساتھ دیا اور تمام قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکادیاتھا، اس لیے غزوۂ خندق سے فراغت کے بعدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف توجہ کی، اس مہم میں بھی علم حضرت علی ؓ کے ہاتھ میں تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے مطابق قلعہ پر قبضہ کرکے اس کے صحن میں عصر کی نماز اداکی۔

بنو سعد کی سرکوبی

؁ 6ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بنو سعد یہود خیبر کی اعانت کے لیے مجتمع ہو رہے ہیں، اس لیے حضرت علی ؓ کو ایک سو کی جمعیت کے ساتھ ان کی سرکوبی پر مامور کیا، انہوں نے ماہِ شعبان میں حملہ کرکے بنو سعد کو منتشر کر دیا اور پانچ سواونٹ اوردوہزار بکریاں مال غنیمت میں لائے۔

صلح حدیبیہ

فتح خیبر

اسی سال یعنی ؁ 6ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً چودہ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ زیارت کعبہ کا ارادہ فرمایا، مقام حدیبیہ میں معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ مزاحمت کریں گے، حضرت عثمان ؓ گفتگوکے لیے سفیر بنا کر بھیجے گئے، مشرکین نے ان کو روک لیا، یہاں یہ خبر مشہور ہو گئی کہ وہ شہید کر دیے گئے، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓ کے انتقام کے لیے مسلمانوں سے بیعت لی، حضرت علی ؓ بھی اس بیعت میں شریک تھے، بعد کو جب یہ معلوم ہوا کہ شہادت کی خبر غلط تھی تو مسلمانوں کا جوش کسی قدر کم ہوا، اورطرفین نے مصالحت پر رضا مندی ظاہر کی، حضرت علی ؓ کو صلح نامہ لکھنے کا حکم ہوا، انہوں نے حسب دستور :ھذا اماقاضٰی علیہ محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی عبارت سے عہد نامہ کی ابتدا کی، مشرکین نے ‘رسول اللہ ’’کے لفظ پر اعتراض کیا اگر ہم کو رسول اللہ ہونا تسلیم ہوتا تو پھر جھگڑاہی کیا تھا؟ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو مٹادینے کا حکم دیا؛لیکن حضرت علی ؓ کی غیرت نے گوارا نہ کیا اورعرض کیا، خداکی قسم! میں اس کو نہیں مٹا سکتا، اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ست مبارک سے اس کو مٹادیا اس کے بعد معاہدہ صلح لکھا گیا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زیارت کا ارادہ ملتوی کرکے مدینہ واپس تشریف لائے۔

؁ 7ھ میں خیبر پر فوج کشی ہوئی، یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے مضبوط قلعے تھے جن کا مفتوح ہونا آسان نہ تھا، پہلے حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے بعد حضرت عمر ؓ اس کی تسخیر پر مامور ہوئے ؛لیکن کامیابی نہ ہوئی، حضورسرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل ایک ایسے بہادر کو علم دوں گا جو خدا اور رسول کا محبوب ہے اور خیبر کی فتح اسی کے ہاتھ سے مقدر ہے، صبح ہوئی تو ہر شخص متمنی تھا کہ کاش اس فخر وشرف کا تاج اس کے سرپر ہوتا؛لیکن یہ دولت گرانمایہ حیدرکرار ؓ کے لیے مقدر ہوچکی تھی، صبح کو بڑے بڑے جاں نثار اپنے نام سننے کے منتظر تھے کہ دفعتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ؓ کا نام لیا، یہ آواز غیر متوقع تھی، کیونکہ حضرت علی ؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلاکر ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا جس سے یہ شکایت فوراً جاتی رہی۔ [41]

مرحب

اس کے بعد علم مرحمت فرمایا، حضرت علی ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں لڑکر ان کو مسلمان بنالوں؟ فرمایا نہیں؛بلکہ پہلے اسلام پیش کرواوران کو اسلام کے فرائض سے آگاہ کرو کیونکہ تمہاری کوششوں سے ایک شخص بھی مسلمان ہو گیا تو وہ تمہارے لیے بڑی سے بڑی نعمت سے بہتر ہے[42]لیکن یہودیوں کی قسمت میں اسلام کی عزت کی بجائے شکست، ذلت اوررسوائی لکھی تھی، اس لیے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اوران کا معزز سردار مرحب بڑے جوش وخروش سے یہ رجز پڑھتا ہوانکلا۔ قد علمت خیبر انی مرحب شاکی السلاح بطل مجرب خیبر مجھ کو جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں سطح پوش ہوں، بہادر ہوں، تجربہ کار ہوں اذالحروب اقبلت تلھب جب کہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے فاتح خیبر اس متکبرانہ رجز کا جواب دیتے ہوئے بڑھا: اناالذی سمتنی امی حیدرہ کلیث غابات کریہ النظرہ میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے جھاڑی کے شیر کی طرح مہیب اورڈراؤنا اوفیہم بالصاع کیل السدرہ میں دشمنوں کو نہایت سرعت سے قتل کردیتا ہوں اور جھپٹ کر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا، [43] اس کے بعد حیدر کرار ؓ نے بڑھ کر حملہ کیا اورحیرت انگیز شجاعت کے ساتھ اس کو مسخر کر لیا۔

مہم مکہ

رمضان ؁ 8ھ میں مکہ پر فوج کشی کی تیاریاں شروع ہوئیں، ابھی مجاہدین روانہ نہ ہوئے تھے، معلوم ہوا کہ ایک عورت غنیم کو یہاں کے تمام حالات سے مطلع کرنے کے لیے روانہ ہو گئی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ، زبیر ؓ، اورمقداد ؓ کو اس کی گرفتاری پر مامور کیا، یہ تینوں تیز گھوڑوں پر سوار ہوکر اس کے تعاقب میں روانہ ہو گئے۔اورخاخ کے باغ میں گرفتار کرکے خط مانگا، پہلے اس عورت نےلا علمی ظاہر کی ؛لیکن جب ان لوگوں نے جامہ تلاشی کا ارادہ کیا تو اس نےخط حوالہ کر دیا اوریہ لوگ خط لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب یہ خط پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ مشہور صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین مکہ کے نام بھیجا تھا اور اس میں بعض مخفی حالات کی اطلاع تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاتم بن ابی بلتعہ سے پوچھا یہ کیامعاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرد جرم قراردینے سے قبل اصل حالات سن لیں، واقعہ یہ ہے کہ مجھ کو قریش سے کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، صرف اس کا حلیف ہوں اور مکہ میں دوسرے مہاجرین کی قرابتیں ہیں جو فتح مکہ کے وقت ان کے اہل و عیال کی حفاظت کرتے، میں نے اس خیال سے کہ اگر کوئی نازک وقت آئے تو میرے بچے بے یارومددگار نہ رہ جائیں یہ خط لکھا تھا، حاشاوکلا اس سے مخبری یا اسلام کے ساتھ دشمنی مقصود نہ تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عذر کو قبول کیا اور لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ انہوں نے سچ بیان کیا ہے؛ لیکن حضرت عمر ؓ کی آتش غضب بھڑک چکی تھی انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اُڑادوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بدری ہیں، کیا تم کو معلوم نہیں کہ بدریوں کے تمام گناہ معاف ہیں۔’’ [44] غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم 10/رمضان ؁ 8ھ کو مدینہ روانہ ہوئے اورایک مرتبہ پھر اس محبوب سرزمین پر دس ہزار قدسیوں کے ساتھ فاتحانہ جاہ وجلال کے ساتھ داخل ہوئے، جہاں سے آٹھ سال پہلے بڑی بے کسی کے ساتھ مسلمان نکالے گئے تھے، ایک علم حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے ہاتھ میں تھا اور وہ جوش کی حالت میں یہ رجز پڑھتے جاتے تھے۔ الیوم یوم الملحۃ الیوم تستحل الکعبۃ ‘‘آج شدید جنگ کا دن ہے آج حرم میں خونریزی جائز ہے۔’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا توفرمایا، نہیں ایسا نہ کہوآج تو کعبہ کی عظمت کا دن ہے اورحضرت علی ؓ کو حکم ہوا کہ سعد بن عبادہ ؓ سے علم لے کر فوج کے ساتھ شہر میں داخل ہوں؛چنانچہ وہ کداء کی جانب سے مکہ میں داخل ہوئے[45] اورمکہ بلاکسی خونریزی کے تسخیر ہو گیا اور وقت آگیا کہ خلیل بت شکن کی یادگارِ (خانہ کعبہ) کو بتوں کی آلائشوں سے پاک کیا جائے جس کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اس فریضہ کو ادا کیا اورخانۂ کعبہ کے گرد جس قدر بت تھے، سب کو لکڑی سے ٹھکراتے جاتے تھے اور یہ آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے‘‘وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا’[46]پھر خانۂ کعبہ کے اندر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام کی مورتیوں کو الگ کروایا اور تطہیر کعبہ کے بعد اندر داخل ہوئے، [47] لیکن چونکہ اس وحدت کدہ کا گوشہ گوشہ بتوں کی مورتیوں سے اٹا ہوا تھا اس لیے اس اہتمام کے باوجود تانبے کا سب سے بڑا بت باقی رہ گیا، یہ لوہے کی سلاخ میں پیوست کیا ہوا زمین پر نصب تھا اس لیے بہت بلندی پر تھا، پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کے کندھوں پر چڑھ کر اس کے گرانے کی کوشش کی؛لیکن وہ جسم اطہر کا بارنہ سنبھال سکے، اس لیے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شانہ اقدس پر چڑھاکراس کے گرانے کا حکم دیا اورانہوں نے سلاخ سے اکھاڑکر حسب ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پاش پاش کرڈالا اورخانہ کعبہ کی کامل تطہیر ہو گئی۔( حاکم نے مستدرک میں اس واقعہ کو بہ تفصیل نقل کیا ہے؛لیکن فتح مکہ کی بجائے شب ہجرت کی طرف منسوب کیا ہے؛لیکن اس کے علاوہ دوسرے محدثین اورارباب سیر نے فتح مکہ میں لکھا ہے اور یہی صحیح اور قریب عقل ہے، ہجرت کی ایسی نازک رات میں جبکہ جان خطرہ میں تھی ایسے بڑے اور خطرناک کام کا انجام دینا بعید از قیاس ہے، دوسرے مکہ کی زندگی میں بت شکنی کا کوئی واقعہ نہیں ہے)

ایک غلطی کی تلافی

فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو بنوحذیمہ میں تبلیغ اسلام کے لیے روانہ فرمایا، انہوں نے توحید کی دعوت دی، بنوحذیمہ نے اسے قبول کیا؛لیکن اپنی بدویت اورجہالت کے باعث اس کو ادا نہ کرسکے اور اسلمنا یعنی ہم نے اسلام قبول کیا کی بجائے صبانا صبانا یعنی ہم بے دین ہو گئے کہنے لگے، حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان کا منشا سمجھ کر سب کو قید کر لیا اوربہتوں کو قتل کرڈالا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو نہایت متاثر ہوئے اورحضرت علی ؓ کو اس غلطی کی تلافی کے لیے روانہ فرمایا، انہوں نے پہنچ کر تمام قیدیوں کو آزاد کرادیا اور مقتولین کے معاوضہ خوں بہادیا۔ [48]

غزوہ حنین

فتح مکہ کے بعد اسی سال غزوہ حنین کا عظیم الشان معرکہ پیش آیا اور اس میں پہلے مسلمانوں کی فتح ہوئی؛لیکن جب وہ مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہوئے تو شکست خوردہ غنیم نے غافل پاکر پھر اچانک حملہ کر دیا، مجاہدین اس ناگہانی مصیبت سے ایسے پریشان ہوئے کہ بارہ ہزار نفوس میں سے صرف چند ثابت قدم رہ سکے، ان میں ایک حضرت علی ؓ بھی تھے، آپ نہ صرف پامردی اوراستقلال کے ساتھ قائم رہے ؛بلکہ اپنی غیر معمولی شجاعت سے لڑائی کو سنبھال لیا اورغنیم کے امیر عسکر پر حملہ کرکے اس کا کام تمام کر دیا اوردوسری طرف جو مجاہدین ثابت قدم رہ گئے تھے وہ اس بے جگری کے ساتھ لڑے کہ مسلمانوں کی ابتری اورپریشانی کے باوجود دشمن کو شکست ہوئی۔ [49]

اہل بیت کی حفاظت

؁ 9ھ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کا قصد فرمایا توحضرت علی ؓ کواہل بیت کی حفاظت کے لیے مدینہ میں رہنے کا حکم دیا، شیرخدا کو شرکتِ جہاد سے محرومی کا غم تو تھا، منافقین کی طعنہ زنی نے اوربھی رنجیدہ کر دیا، سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال کا علم ہوا تو ان کا غم دورکرنے کے لیے فرمایا، علیؓ !کیا تم اسے پسند کروگے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ رتبہ ہو جو ہارون کا موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا۔” 

تبلیغ فرمانِ رسول

غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بناکر روانہ فرمایا، اسی اثناء میں سورۂ برأت نازل ہوئی، لوگوں نے کہا کہ اگر یہ سورۃ ابوبکر ؓ کے ساتھ حج کے موقع پر لوگوں کو سنانے کے لیے بھیجی جاتی تو اچھا ہوتا، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری طرف سے صرف میرے خاندان کا آدمی اس کی تبلیغ کرسکتا ہے؛چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بلاکر حکم دیا کہ وہ مکہ جاکر اس سورۃ کو سنائیں اورعام اعلان کر دیں کہ کوئی کافرجنت میں داخل نہ ہوگا اوراس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی شخص برہنہ خانہ کعبہ کا طواف کرے اورجس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہدہے وہ مدتِ مہینہ تک باقی رہے گا۔ [51]

مہم یمن اوراشاعتِ اسلام

تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مہمیں روانہ فرمائیں ان میں یمن کی مہم پر حضرت خالد بن ولید ؓ مامور ہوئے، لیکن چھ مہینہ کی مسلسل جدوجہد کے باوجود اشاعت اسلام میں کامیاب نہ ہو سکے، اس لیے رمضان 10ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو بلا کر یمن جانے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسی قوم میں بھیجا جاتا ہوں جس میں مجھ سے زیادہ معمر اورتجربہ کارلوگ موجود ہیں، ان لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنا میرے لیے نہایت دشوار ہوگا، ’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی‘‘ اے خدا اس کی زبان کوراست گو بنا اور ا س کے دل کو ہدایت کے نورسے منور کر دے’’ اس کے بعد خود اپنے دستِ اقدس سے ان کے فرقِ مبارک پر عمامہ باندھا اورسیاہ علم دے کر یمن کی طرف روانہ فرمایا۔ [52] حضرت علی ؓ کے یمن پہنچتے ہی یہاں کا رنگ بالکل بدل گیا، جولوگ خالد ؓ کی چھہ مہینہ کی سعی و کوشش سے بھی اسلام کی حقیقت کو نہیں سمجھے تھے وہ حضرت علی مرتضی ؓ کی صرف چند روزہ تعلیم وتلقین سے اسلام کے شیدائی ہو گئے اور قبیلہ ہمدان مسلمان ہو گیا۔[53]

حجۃ الوداع میں شرکت

اسی سال یعنی ؁ 10ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کیا، حضرت علی ؓ بھی یمن سے آکر اس یادگار حج میں شریک ہوئے۔

صدمۂ جانکاہ

حج سے واپسی کے بعد ابتدائے ماہ ربیع الاول ؁ 11ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، حضرت علی ؓ نےنہایت تندہی اورجانفشانی کے ساتھ تیمار داری اورخدمت گزاری کا فرض انجام دیا، ایک روز باہر آئے، لوگوں نےپوچھا، اب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج کیسا ہے؟ حضرت علی ؓ نے اطمینان ظاہرکیا، حضرت عباس ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، خدا کی قسم! میں موت کے وقت خاندان عبدالمطلب کے چہرے پہچانتا ہوں، آؤ چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ ہمارے لیے خلافت کی وصیت کرجائیں، حضرت علی ؓ نے کہا، میں عرض نہیں کروں گا، اگر خدا کی قسم!آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا تو پھر آئندہ کوئی امید باقی نہیں رہے گی، [54] دس روز کی مختصر علالت کے بعد 12/ربیع الاول دوشنبہ کے دن دوپہر کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان نثاروں کو اپنی مفارقت کا داغ دیا، حضرت علی ؓ چونکہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین عزیز اورخاندان کے رکن رکین تھے، اس لیے غسل اورتجہیز وتکفین کے تمام مراسم انہی کے ہاتھ سے انجام پائے۔ [55] انصار ومہاجرین دروازے کے باہر کھڑے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایک انصاری کو بھی اس میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔

خلیفۂ اول کی بیعت توقف کی وجہ

سقیفۂ بنو ساعدہ کی مجلس نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت پر اتفاق کیا اورتقریباً تمام اہل مدینہ نے بیعت کرلی، البتہ صحیح روایات کے مطابق صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے چھہ مہینے تک دیر کی، لوگوں نے اس توقف کے عجیب وغریب وجوہ اختراع کرلئے ہیں ؛لیکن صحیح یہ ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کی سوگوار زندگی نے ان کو بالکل خانہ نشین بنادیا تھا اورتمام معاملات سے قطع تعلق کرکے وہ صرف ان کی تسلی ودلدہی اورقرآن شریف کے جمع کرنے میں مصروف تھے؛چنانچہ جب حضرت فاطمہ ؓ کا انتقال ہو گیا اس وقت انہوں نے خود حضرت ابوبکر ؓ سے ان کے فضل کا اعتراف کیا اوربیعت کرلی۔ [56] سوا دو برس کی خلافت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے وفات پائی اورحضرت عمرؓ مسند آرائے خلافت ہوئے، حضرت عمرؓ بڑی بڑی مہمات میں حضرت علی ؓ کے مشورے کے بغیر کام نہیں کرتے تھے اورحضرت علی ؓ بھی نہایت دوستانہ اورمخلصانہ مشورے دیتے تھے، نہاوند کے معرکہ میں ان کو سپہ سالار بھی بنانا چاہا تھا ؛لیکن انہوں نے منظور نہیں کیا، بیت المقدس گئے تو کاروبارِخلافت انہی کے ہاتھ دے کر گئے، [57]اتحاد ویگانگت کاعالم اخیر مرتبہ یہ تھا کہ باہم رشتہ مصاہرت قائم ہو گیا، یعنی حضرت علی ؓ کی صاحبزادی ام کلثوم ؓ حضرت عمر ؓ کے نکاح میں آئیں۔ فاروق اعظم ؓ کے بعد حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں فتنہ و فساد شروع ہوا تو حضرت علی ؓ نے ان کو رفع کرنے کے لیے ان کو نہایت مخلصانہ مشورے دیے، ایک دفعہ حضرت عثمان ؓ نے ان سے پوچھا کہ ملک میں موجودہ شورش وہنگامہ کی حقیقی وجہ اوراس کے رفع کرنے کی صورت کیاہے؟ انہوں نے نہایت خلوص اورآزادی سے ظاہر کر دیا کہ موجودہ بے چینی تمام تر آپ کے عمال کے بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہے، حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں نے عمال کے انتخاب میں انہی صفات کو ملحوظ رکھا ہے جو فاروق اعظم ؓ کے پیش نظر تھے، پھر ان سے عام بیزاری کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی؟ جناب علی مرتضی ؓ نے فرمایا ہاں! یہ صحیح ہے کہ حضرت عمرؓ نے سب کی نکیل اپنےہاتھ میں لے رکھی تھی اور گرفت ایسی سخت تھی کہ عرب کا سرکش سے سرکش اونٹ بھی بلبلااٹھا برخلاف اس کے آپ ضرورت سے زیادہ نرم دل ہیں، آپ کے عمال اس نرمی سے فائدہ اٹھا کر من مانی کارووائیاں کرتے ہیں اورآپ کو خبر بھی نہیں ہونے پاتی، رعایا سمجھتی ہے کہ عمال جو کچھ کرتے ہیں وہ سب دربارِ خلافت کے احکام کی تعمیل ہے، اس طرح تمام بے اعتدالیوں کا ہدف آپ کو بننا پڑا۔ [58] سب سے آخر میں مصری وفد کا معاملہ پیش آیا، حضرت عثمان ؓ نے ان سے اصرار کیا کہ اپنی وساطت سےا س جھگڑے کا تصفیہ کرادیں اور انقلاب پسند جماعت کو راضی کرکے واپس کر دیں، پہلے تو انہوں نے انکار کیا ؛لیکن پھر معاملہ کی اہمیت اورحضرت عثمان ؓ کے اصرار سے مجبور ہوکر درمیان میں پڑے اورحضرت عثمان ؓ سے اصلاحات کا وعدہ لیکر انقلاب پسندوں کو اپنی ذمہ داری پر واپس کر دیا، مصری وفد کے ارکان ابھی راہ ہی میں تھے کہ ان کو سرکاری قاصد کی تلاشی سے ایک فرمان ہاتھ آیا جس میں حاکم مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ اس وفد کے تمام شرکاء کو تہ تیغ کر دیا جائے، مصری اس غداری سے غضبناک ہوکر واپس آئے اورحضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ایک طرف تو آپ نے ہم کو اصلاحات کا اطمینان دلا کر واپس کیا اور دوسری طرف سے دربارِ خلافت کا یہ غدار انہ فرمان جاری ہوا، حضر علی ؓ نے فرمان دیکھا تو تعجب ہوئے اورحضرت عثمان ؓ کے پاس جاکر اس کی حقیقت دریافت کی، انہوں نے اس سے حیرت کے ساتھ لا علمی ظاہر کی حضرت علی ؓ نے کہا مجھے بھی آپ سے ایسی توقع نہیں ہوسکتی تھی لیکن اب میں آئندہ کسی معاملہ میں نہ پڑوں گا؛چنانچہ اس کے بعد وہ بالکل عزلت نشین ہو گئے۔ مصریوں نے جوش انتقام میں نہایت سختی کے ساتھ کاشانۂ خلافت کا محاصرہ کر لیا اورآخر میں یہاں تک شدت اختیار کی کہ آب ودانہ سے بھی محروم کر دیا، حضرت علی ؓ کو معلوم ہوا تو عزلت گزینی اورخلوت نشینی کے باوجود محاصرہ کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اورفرمایا کہ تم لوگوں نے جس قسم کا محاصرہ قائم کیا ہے وہ نہ صرف اسلام ؛بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے، کفار بھی مسلمانوں کو قید کرلیتے ہیں توآب ودانہ سے محروم نہیں کرتے، اس شخص نے تمہارا کیا نقصان کیا ہے جو ایسی سختی روارکھتے ہو؟ محاصرین نے حضرت علی ؓ کی سفارش کی کچھ پروا نہ کی اور محاصرہ میں سہولت پیدا کرنے سے قطعی انکار کر دیا حضرت علی ؓ غصہ میں اپنا عمامہ پھینک کر واپس چلے آئے۔ [59] محاصرہ اگرچہ نہایت سخت تھا تاہم حضرت علی ؓ کو اس کا وہم بھی نہ تھا کہ یہ معاملہ اس قدر طول کھینچے گا کہ شہادت تک نوبت پہنچے گی، وہ سمجھے جس طرح حقوق طلبی کے متواتر مظاہرے ہوتے رہے ہیں، یہ بھی اسی قسم کا ایک سخت مظاہرہ ہے، تاہم اپنے دونوں صاحبزادوں کواحتیاطاً حفاظت کے لیے بھیج دیا، جنھوں نے نہایت تندہی اور جانفشانی کے ساتھ مدافعت کی، یہاں تک کہ اسی کشمکش میں زخمی ہوئے ؛لیکن کثیر التعداد مفسدین کا روکنا آسان نہ تھا، وہ دوسری طرف سے دیوار پھاند کر اندر گھس آئے اور خلیفہ وقت کو شہید کرڈالا، حضرت علی ؓ کو معلوم ہوا تو اس سانحہ جانکاہ پرحددرجہ متاسف ہوئے اورجولوگ حفاظت پر مامور تھے، ان پر سخت ناراضی ظاہرکی، حضرت امام حسن ؓ اورامام حسین ؓ کا مارا، محمد بن طلحہ ؓ اورعبداللہ بن زبیر ؓ کو برابھلا کہا کہ تم لوگوں کی موجود گی میں یہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔

خلافت

حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد تین دن تک مسند خلافت خالی رہی، اس عرصہ میں لوگوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہ سے اس منصب کے قبول کرنے کے لیے سخت اصرار کیا، انہوں نے پہلے اس بارِ گراں کے اٹھانے سے انکار کر دیا ؛لیکن آخر میں مہاجرین وانصار کے اصرار سے مجبور ہوکر اٹھانا پڑا، [60]اور اس واقعہ کے تیسرے دن 21/ذی الحجہ دوشنبہ کے دن مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جناب علی مرتضی ٰ کے دست اقدس پر بیعت ہوئی۔ مسند نشین خلافت ہونے کے بعد سب سے پہلے کام حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کا پتہ چلانا اور ان کو سزا دیناتھا؛لیکن دقت یہ تھی کہ شہادت کے وقت صرف ان کی بیوی نائلہ بنت الفرافصہ موجود تھیں جو اس کے سوا کچھ نہ بتاسکیں کہ محمد بن ابی بکر ؓ دو آدمیوں کے ساتھ جن کو وہ پہلے سے پہنچانتی نہیں تھیں، اندر آئے، حضرت علی ؓ نے محمد بن ابی بکر ؓ کو پکڑا تو انہوں نے قسم کھا کر اپنی برات ظاہر کی کہ وہ قتل کے ارادے سے ضرور داخل ہوئے تھے ؛لیکن حضرت عثمان ؓ کے جملہ سے محجوب ہوکر پیچھے ہٹ آئے، البتہ ان دونوں نابکاروں نے بڑھ کر حملہ کیا جن کووہ بھی نہیں جانتے کہ کون تھے؟ حضرت نائلہ ؓ نے بھی اس بیان کی تصدیق کی کہ محمدبن ابی بکر ؓ شریک نہ تھے، غرض تحقیق وتفتیش کے باوجود قاتلوں کا پتہ نہ تھا، تاریخ کی کتابوں میں قاتلوں کے مختلف نام مذکور ہیں، لیکن شہادت کی قانونی حیثیت سے وہ مجرم ثابت نہیں ہوتے اس لیے مجرموں کا کوئی پتہ نہ چلا اورحضرت علی ؓ اس وقت کوئی کارروائی نہ کرسکے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا حضرت علی ؓ کے نزدیک اس انقلاب کا اصلی سبب عمال کی بے اعتدالیاں تھیں اور بڑی حد تک یہ صحیح بھی ہے اس لیے آپ نے تمام عثمانی عمال کو معزول کرکے عثمان بن حنیف کو بصرہ کا عامل مقرر کیا، عمارہ بن حسان کو کوفہ کی حکومت سپرد کی، حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کو یمن کی ولایت پر مامور کیا اورسہل کو حکومت شام کافرمان دے کر روانہ کیا، سہل تبوک کے قریب پہنچے تو امیر معاویہ ؓ کے سوار مزاحم ہوئے اوران کو مدینہ جانے پر مجبور کیا، اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو معلوم ہوا کہ ان کی خلافت جھگڑوں سے پاک نہیں ہے۔ حضرت علی ؓ نے امیر معاویہ ؓ کو لکھا کہ مہاجرین وانصار نے اتفاق عام کے ساتھ میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے اس لیے یا تو میر ی اطاعت کرویا جنگ کے لیے تیار ہوجاؤ، امیر معاویہ ؓ نے اپنے خاص قاصد کی معرفت جواب بھیجا اورخط میں صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد مکتوب الیہ کا اوراپنا نام لکھا، قاصد نہایت طرار اور زبان آور تھا اس نے کھڑے ہوکر کہاصاحبو! میں نے شام میں پچاس ہزار شیوخ کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ عثمان ؓ کی خون آلود قمیص پر ان کی ڈاڑھیاں آنسوؤں سے تر ہیں اور انہوں نے عہد کر لیا ہے کہ جب تک اس خونِ ناحق کا قصاص نہیں لیں گے، اس وقت تک ان کی تلواریں بے نیام رہیں، قاصد یہ کہہ چکا توحضرت علی ؓ کی جماعت میں سے خالد بن زفر عبسی نے اس کے جواب میں کہا‘‘تمہارا برا ہو!کیا تم مہاجرین وانصار کو شامیوں سے ڈراتے ہو؟ خدا کی قسم نہ تو قمیص عثمان ؓ، قمیص یوسف علیہ السلام ہے اور نہ معاویہ ؓ کو یعقوب علیہ السلام کی طرح غم ہے، اگر شام میں اس قدر اس کو اہمیت دی گئی ہے تو تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اہل عراق اس کی کچھ پروا نہیں کرتے۔ حضرت عائشہؓ کی قصاص پر آمادگی امیرمعاویہ ؓ کے مناقشات کا ابھی آغاز ہوا ہی تھا کہ دوسرا قضیۂ نامرضیہ پیدا ہوگیایعنی حضرت عائشہ ؓ مکہ سے مدینہ واپس ہورہی تھیں، راستہ میں ان کے ایک عزیز ملے ان سے حالات دریافت کیے تو معلوم ہوا کہ عثمان ؓ شہید کر دیے گئے اور علی ؓ خلیفہ منتخب ہوئے ؛لیکن ہنوز فتنہ کی گرم بازاری ہے، یہ خبر سن کر پھر مکہ واپس ہوگئیں، لوگوں نےواپسی کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ عثمان ؓ مظلوم شہید کر دیے گئے اورفتنہ دبتا ہوا نظر نہیں آتا، اس لیے تم لوگ خلیفہ مظلوم کا خون رائیگاں نہ جانے دو اور قاتلوں سے قصاص لیکر اسلام کی عزت بچاؤ۔ [61] حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد مدینہ میں فتنہ و فساد کے آثار دیکھ کر حضرت طلحہ ؓ اور زبیر بھی حضرت علی ؓ سے اجازت لے کر مکہ چلے گئے تھے، حضرت عائشہ ؓ نے ان سے بھی وہاں کے حالات دریافت کیے، انہوں نے بھی شوروغوغہ کی داستان سنائی، ان کے بیان سے حضرت عائشہ ؓکے ارادوں میں اور تقویت ہوئی اورانہوں نے خلیفہ مظلوم کے قصاص کی دعوت شروع کردی۔ حقیقت یہ ہے کہ واقعات کی ترتیب اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بعض سیاسی تسامح نے عام طورپر ملک میں بدنظمی پیداکردی تھی، حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں کا پتہ نہ چلنا ان کے اعداء کو اپنا معاون وانصار بنانا اورمسند خلافت پر متمکن ہونے کے ساتھ تمام عمال کو برطرف کردینا لوگوں کو بدظن کردینے کے لیے کافی تھا، انہی بدگمانیوں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کو بھی حضرت عثمان ؓ کے قصاص پر آمادہ کر دیا؛چنانچہ قصاص کی تیاریاں شروع ہوگئیں، عبد اللہ بن عامر حضرمی والی مکہ مروان بن حکم سعید بن العاص اور دوسرے بنی امیہ نے جو مدینہ سے مفرور ہوکر مکہ میں پناہ گزین تھے، نہایت جوش کے ساتھ اس تحریک کو پھیلایا اور ایک معتدبہ جمعیت فراہم کرکے روانہ ہوئے کہ پہلے بیت المال قبضہ کرکے مالی مشکلات میں سہولت پیداکریں، پھر بصرہ، کوفہ اور عراق کی دوسری نوآبادیوں میں اس تحریک کی اشاعت کرکے لوگوں کو اپنا ہم آہنگ بنائیں۔

سفر عراق

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو مکہ کی تیاریوں کا حال معلوم ہوا تو آپ نے بھی اس خیال سے عراق کا قصد کیا وہاں مخالفین سے پہلے پہنچ کر بیت المال کی حفاظت کا انتظام کریں اوراہل عراق کو وفاداری کا سبق دیں، انصارکرام کو اس ارادہ کی خبر ہوئی تو وہ بارگاہ خلافت میں حاضر ہوئے اورحضرت عقبہ بن عامر ؓ نے جو بڑے پایہ کے صحابی اورغزوہ بدر میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب رہ چکے تھے، انصار کی جانب سے گزارش کی کہ دار الخلافہ چھوڑ کر جانا کسی طرح مناسب نہیں ہے، عمر فاروق ؓ کے عہد میں بڑی بڑی جنگیں پیش آئیں ؛لیکن انہوں نے کبھی مدینہ سے باہر قدم نہیں نکالا، اگر اُس وقت خالد ؓ، ابوعبیدہ ؓ، سعدوقاص ؓ، ابو موسیٰ اشعری ؓ نے شام وایران کو تہ وبالا کر دیا تھا تو اِس وقت بھی ایسے جانبازوں کی کمی نہیں، حضرت علی ؓ نے فرمایا، یہ صحیح ہے ؛لیکن عراق پر مخالفین کے تسلط سے نہایت دشواری پیش آئے گی وہ اس وقت مسلمانوں کی بہت بڑی نوآبادی ہے وہاں کے بیت المال بھی مال وزر سے پر ہیں، اس لیے میرا وہاں موجود رہنا نہایت ضروری ہے اور مدینہ میں عام منادی کرادی کہ لوگ سفر عراق کے لیےتیار ہوجائیں، چند محتاط صحابہ کے سوا تقریباً ًاہل مدینہ ہمرکاب ہوئے، ذی قار پہنچ کر معلوم ہوا کہ حضرت طلحہ ؓ اورزبیر ؓ سبقت کرکے بصرہ پہنچ گئے ہیں اور بنو سعد کے علاوہ تقریباً تمام بصرہ والوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی۔

No comments:

Post a Comment