SAIFI MEDIA

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

تازہ ترین

سُلطان الہند حضرت خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ

سُلطان الہند حضرت خواجہ سیّد محمد معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ (1142ء-1236ء) فارسی نژاد روحانی پیشوا، واعظ، عالم، فلسفی، صوفی اور زاہد نیز اجمیری سلسلۂ چشتیہ کے مشہور بزرگ تھے۔ ان کا آبائی وطن سیستان تھا۔ 13ویں صدی کے اوائل میں انہوں نے برصغیر کا سفر کیا اور یہیں بس گئے اور تصوف کے مشہور سلسلہ چشتیہ کو خوب فروغ بخشا۔ تصوف کا یہ سلسلہ قرون وسطی کے ہندوستان میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اس طریقت کو کئی سنی اولیا نے اپنایا جن میں حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللّٰه علیہ (وفات: 1325) اور حضرت امیر خسرو رحمتہ اللّٰه علیہ (وفات: 1325) جیسی عظیم الشان شخصیات بھی شامل ہیں۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ کو برصغیر کا سب سے بڑا ولی اور صوفی سمجھا جاتا ہے۔خواجہ غریب نواز رحمتہ اللّٰه علیہ وہ پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے غیر عرب مسلمانوں کو سماع کی طرف راغب کیا اور تقرب الہی کی غرض سے حالت وجد میں سماع کی اجازت دی تاکہ نو مسلموں کو اجنبیت کا احساس نہ ہو اور بھجن اور گیت کے عادی قوالی اور سماع کے ذریعے اللہ سے تقرب حاصل کریں۔ حالانکہ بعض علما کا کہنا ہے کہ ان کا یہ فیصلہ صد فیصد درست نہیں تھا کیونکہ ان ہی کے سلسلہ کے بزرگ حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللّٰه علیہ نے تمام قسم کے آلات موسیقی کو حرام قرار دے دیا تھا۔

حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ کی ابتدائی زندگی کے متعلق بہت کم معلومات دستیاب ہیں البتہ جب انہوں نے ہندوستان کا سفر کیا تو اس وقت وسط ایشیا میں منگولوں کا قہر برپا تھا لہذا یہ ممکن ہے کہ حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ نے ان سے بچنے کے لیے ہندوستان کا رخ کیا ہو۔ انہوں نے حضرت سلطان التتمش رحمتہ اللّٰه علیہ (وفات: 1236ء) نے زمانہ میں دہلی میں قدم رکھا مگر بہت مختصر مدت کے بعد اجمیر تشریف لے گئے۔ اسی مقام پر وہ اہل سنت کے حنبلی مسلک کے عالم اور اہل باطن حضرت خواجہ عبد اللہ انصاری رحمتہ اللّٰه علیہ (وفات: 1088ء) کی تحریروں سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ حضرت خواجہ عبداللہ رحمتہ اللّٰه علیہ کی اسلاف صوفیا کی حیات و حالات پر مشہور کتاب طبقات الاولیاء کا حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ کی شخصیت اور ان کے ظاہر و باطن کو سنوارنے میں اہم کردار رہا۔اس کتاب نے انہیں دنیا کو دیکھنے کا نیا نظریہ دیا۔ اسی زمانہ میں وہ اجمیر میں صاحت کرامت بزرگ کے طور پر مشہور ہونے لگے۔ وہ بیک وقت معلم، واعظ، مبلغ، روحانی پیشوا اور صاحب کرامت بزرگ تھے۔



حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ اپنی تمام خصوصیات کی بنا پر ہندوستان اور برصغیر کے سب سے بڑے اور عظیم المرتبت صوفی اور بزرگ کی حیثیت سے جانے لگے۔ ♦️ولادت♦️آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ 14 رجب المرجب 536 ھ بمطابق 1141 عیسوی (بروز پیر 14 رجب 530ھ مطابق 1135ء)کو جنوبی ایران کے علاقے سیستان آپ ایران میں خراسان کے نزدیک سنجر نامی گاؤں کے ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئے۔ حضرت معین الدین رحمتہ اللّٰه علیہ کا بچپن میں نام حسن تھا۔ آپ نسلی اعتبار سے نجیب الطرفین صحیح النسب سید تھے آپ کا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سے امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ کے والد گرامی حضرت خواجہ غیاث الدین حسین رحمتہ اللّٰه علیہ امیر تاجر اور با اثر تھے۔ خواجہ غیاث صاحب ثروت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عابد و زاہد شخص بھی تھے۔ دولت کی فراوانی کے باوجود حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ بچپن سے ہی بہت قناعت پسند تھے۔

حضرت معین الدین رحمتہ اللّٰه علیہ کی والدہ محترمہ کا اسم گرامی حضرت بی بی ماہ نور رح ہے۔♦️نسب♦️ حضرت سید معین الدین حسن چشتی الاجمیری بن سید غیاث الدین بن سید سراج الدین بن سید عبد اللہ بن سید کریم بن سید عبدالرحمن بن سید اکبر بن سید محمد بن سید علی بن سید جعفر بن سید باقر بن سید محمد بن سید علی بن سید احمد بن ابراہیم مرتضی بن امام موسی کاظم علیہ السلامتاریخ کے آئنے میں والد حضرت امام حسین علیہ اسلام اور والدہ حضرت امام حسن علیہ اسلام کی اولاد میں سے ہیں اسی طرح آپ حسنی وحسینی سید ہیں ۔عمر مبارک 15 سال تھی جب آپ کے والد کا وصال ہوا ۔والد کا مزار شہر بغداد میں ہے ۔پیر ومرشد کا نام حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللّٰه علیہ ہے ،ان کا مزار مکہ معظمہ میں ہے ۔آپ پیر ومرشد کے ساتھ روضہ رسول پر گئے اور کعبۃ اللہ کی زیارت کی۔ حضور ﷺ کے حکم پر 588ھ میں ہندوستان تشریف لائے ۔ہندوستان کی تشریف آوری کے موقع پر مریدین ومعتقدین کی تعداد 40 تھی ۔جب آپ تشریف لائے اس وقت اجمیر میں پر تھوی راج چو ہان کی حکومت تھی ۔آ

پ نے دو شادیاں کیں ایک بیوی کا نام عصمت اللہ ہے جبکہ دوسری بیوی کا نام امت اللہ ہے۔آپ کے تین فر زند اور ایک بیٹی تھی۔ حضرت خواجہ فخر الدین رحمتہ اللّٰه علیہ جن کا مزار اجمیر سے ساٹھ کلو میڑ دور درواڑ میں ہے ۔حضرت خواجہ ابو سعید چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ جن کا مزار احاطہ درگاہ شاہی گھاٹ پر ہے۔ خواجہ حسام الدین ایام جوانی رحمتہ اللّٰه علیہ میں ہی مردان غیب میں شامل ہو گئے تھے ۔آپ کی صاحبزادی کانام حضرت بی بی حافظ جمال (رح) ہے♦️القابات♦️معین الحق، حجۃ الاولیاء، سراج الاولیاء، فخر الکاملین، قطب العارفین، ہند الولی، عطاء رسول، تاج اولیاء، شاہ سوار قاتل کفار، مغيث الفقراء او معطي الفقراء، سلطان الہند، ولی الہند، ہند النبی، وارث النبی فی الہند، خواجہء خواجگان ، خواجہ اجمیری، خواجہ غریب نواز، امام الطریق، خواجہ بزرگ، پیشواء مشایخ ہند، شیخ الاسلام، نائب النبی فی الہند♦️بچپن♦️جب آپ کی عمر صرف 15 سال تھی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ایسے لمحات میں آپ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی نور نے بڑی استقامت کا ثبوت دیا اور بڑے حوصلے کے ساتھ بیٹے کو سمجھایا اور کہا:”فرزند! زندگی کے سفر میں ہر مسافر کو تنہائی کی اذیتوں سے گزرنا پڑتا ہے اگر تم ابھی سے اپنی تکلیفوں کا ماتم کرنے بیٹھ گئے تو زندگی کے دشوار گزار راستے کیسے طے کرو گے۔ تمہارے والد کا ایک ہی خواب تھا کہ ان کا بیٹا علم و فضل میں کمال حاصل کرے۔ چنانچہ تمہیں اپنی تمام تر صلاحیتیں تعلیم کے حصول کے لیے ہی صرف کر دینی چاہئیں“۔

مادر گرامی کی تسلیوں سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ کی طبیعت سنبھل گئی اور آپ زیادہ شوق سے علم حاصل کرنے لگے۔ مگر سکون و راحت کی یہ مہلت بھی زیادہ طویل نہ تھی مشکل سے ایک سال ہی گزرا ہو گا کہ آپ کی والدہ حضرت بی بی نور (رح)بھی خالق حقیقی سے جاملیں۔ اب حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ اس دنیا میں اکیلے رہے گےوالد گرامی کی وفات پر ایک باغ اور ایک آٹا پیسنے والی چکی آپ کو ورثے میں ملی۔ والدین کی جدائی کے بعد باغبانی کا پیشہ آپ نے اختیار کیا۔ تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ آپ کو اس کا بڑا افسوس تھا لیکن یہ ایک ایسی فطری مجبوری تھی جس کا بظاہر کوئی علاج نہ تھا۔ ایک دن حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ اپنے باغ میں درختوں کو پانی دے رہے تھے کہ ادھر سے مشہور بزرگ حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ کا گزر ہوا۔ آپ نے بزرگ کو دیکھا تو دوڑتے ہوئے پاس گئے اور حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ ایک نوجوان کے اس جوش عقیدت سے بہت متاثر ہوئے۔

انہوں نے شفقت سے آپ کے سر پر ہاتھ پھیرا اور چند دعائیہ کلمات کہہ کر آگے جانے لگے تو آپ نے حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ کا دامن تھام لیا۔ حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ نے محبت بھرے لہجے میں پوچھا:اے نوجوان! ”آپ کیا چاہتے ہیں؟“حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ نے عرض کی کہ”آپ چند لمحے اور میرے باغ میں قیام فرمائیے۔ کون جانتا ہے کہ یہ سعادت مجھے دوبارہ نصیب ہوگی کہ نہیں“۔آپ کا لہجہ اس قدر عقیدت مندانہ تھا کہ حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ سے انکار نہ ہو سکا اور آپ باغ میں بیٹھ گئے۔ پھر چند لمحوں بعد انگوروں سے بھرے ہوئے دو طباق حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ نے حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ کے سامنے رکھ دیے اور خود دست بستہ کھڑے ہو گئے۔ حضرت ابراہیم قندوزی رحمتہ اللّٰه علیہ نے اپنے پیرہن میں ہاتھ ڈال کر جیب سے روٹی کا ایک خشک ٹکڑا نکال کر حضرت معین الدین رحمتہ اللّٰه علیہ کی طرف بڑھایا اور فرمایا”وہ تیری مہمان نوازی تھی یہ فقیر کی دعوت ہے“۔ اس ٹکڑے کا حلق سے نیچے اترنا ہی تھا کہ معین الدین چشتی کی دنیا ہی بدل گئی۔ آپ کو یوں محسوس ہونے لگا جیسے کائنات کی ہر شے بے معنی ہے۔♦️علوم ظاہری♦️ بعد ازاں آپ نے سب کچھ اللہ کی راہ میں لُٹانے کے بعد تحصیل علم کے لیے خراساں کو خیرباد کہہ دیا اور آپ نے سمرقند بخارا کا رُخ کیا جو اس وقت علوم و فنون کے اہم مراکز تصور کیے جاتے تھے۔ یہاں پہلے آپ نے قرآن پاک حفظ کیا۔ پھر تفسیر‘ فقہ‘ حدیث اور دوسرے علوم ظاہری میں مہارت حاصل کی۔♦️علوم باطنی♦️علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد آپ نے مرشد کامل کی تلاش میں عراق کا رخ کیا۔ اپنے زمانے کے مشہور بزرگ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللّٰه علیہ کی خدمت میں آئے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ اپنے مرشد کی خدمت میں تقریباً اڑھائی سال رہے۔ آپ پیرو مرشد کی خدمت کے لیے ساری ساری رات جاگتے رہتے کہ مرشد کو کسی چیز کی ضرورت نہ پڑ جائے۔

سرورِ کائنات کے روضہ اقدس کی حاضری ہوئی حضرت عثمان ہارونی رحمتہ اللّٰه علیہ نے حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ کو حکم دیا۔”معین الدین! آقائے کائنات کے حضور سلام پیش کرو۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ نے گداز قلب کے ساتھ لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔”السلام علیکم یا سید المرسلین۔“ وہاں موجود تمام لوگوں نے سنا۔ روضہ رسول سے جواب آیا۔”وعلیکم السلام یا سلطان الہند“۔پر یہ روایت حسن کمزور ہے۔♦️اسفار♦️ سفر بغداد کے دوران میں آپ کی ملاقات حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمتہ اللّٰه علیہ سے ہوئی اولیائے کرام میں حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمتہ اللّٰه علیہ کا مقام بہت بلند ہے۔ حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ اڑھائی ماہ تک حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمتہ اللّٰه علیہ کے ہاں قیام پزیر رہے اور ایک عظیم صوفی کی محبتوں سے فیض یاب ہوئے۔ اس کے بعد حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ بغداد میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللّٰه علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ کچھ عرصہ یہاں قیام کیا۔ پھر آپ تبریز تشریف لے گئے اور وہاں حضرت خواجہ ابو سعید تبریزی رحمتہ اللّٰه علیہ سے فیض حاصل کیا۔ حضرت ابو سعید تبریزی رحمتہ اللّٰه علیہ کو تصوف کی دنیا میں ہمہ گیر شہرت حاصل ہے۔

چند دن یہاں گزارنے کے بعد آپ اصفہان تشریف لے گئے۔ وہاں مشہور بزرگ حضرت شیخ محمود اصفہانی رحمتہ اللّٰه علیہ کی محبت سے فیض یاب ہوئے۔ جب آپ اصفہان سے روانہ ہوئے تو حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللّٰه علیہ جو ابھی نوعمر تھے آپ کے ساتھ ہوئے جو بعد میں تاجدار ہند کہلائے۔ آپ گنج شکر حضرت بابا فرید رحمتہ اللّٰه علیہ کے مرشد اور حضرت نظام الدین اولیاء رحمتہ اللّٰه علیہ کے دادا مرشد ہیں۔ بہرکیف حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ اصفہانسے خرقان تشریف لے آئے یہاں آپ نے دو سال وعظ فرمایا اور ہزاروں انسانوں کو راہ راست پر لائے۔ پھر ایران کے شہر استرآباد تشریف لے آئے ان دنوں وہاں ایک مرد کامل حضرت شیخ ناصر الدین رحمتہ اللّٰه علیہ قیام پزیر تھے۔ جن کا دو واسطوں سے سلسلہ حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللّٰه علیہ سے جا ملتا ہے چند ماہ یہاں حضرت شیخ ناصرالدین رحمتہ اللّٰه علیہ سے روحانی فیض حاصل کیا۔ پھر ہرات کا قصد کیا۔ یہ شہر ایرانی سرحد کے قریب افغانستان میں واقع ہے۔ یہاں خواجہ عبداللہ انصاری رحمتہ اللّٰه علیہ کے مزار مبارک پر آپ کا قیام تھا۔ بہت جلد سارے شہر میں آپ کے چرچے ہونے لگے۔ جب بات حد سے بڑھ گئی اور خلق خدا کی ہر لمحے حاضری کی وجہ سے وظائف اور عبادت الٰہی میں فرق پڑنے لگا تو آپ ہرات کو خیرباد کہہ کر سبزوار تشریف لےگئے۔♦️دعوت وتبلیغ♦️سلسلہ چشتیہ ہندوستان میں آپ ہی سے پھیلا اور ہندوستان میں نوے لاکھ آدمی آپ کے ہاتھ پر اسلام لائے♦️وصال♦️ ایک روایت کے مطابق تاريخ وفات 6 رجب627ہ 661هـ-1230ء ہے۔ آپ 97 سال حیات رہے جبکہ دوسری روایت میں 103 سال کی عمر میں آپ کا وصال 633ھ ْ 1229ء میں اجمیر میں ہوا۔♦️خلفاء♦️حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ کے کئی خلفاء ہیں جن میں سے چند ایک یہ ہیں:

حضرت قطب الدین بختیار کاکی رح رحمتہ اللّٰه علیہ (خلیفہ و جانشین)

حضرت بابافريد الدين مسعود گنج شکر رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت نظام الدين اولياء رحمتہ اللّٰه علیہ مشہور خلیفہ

حضرت ابو الحسن يمين الدين خسرو رحمتہ اللّٰه علیہحضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت السید اشرف جہانگیر سمنانی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت عطاء حسين فانی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت شاہ جمال بابا رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت شيخ حميد الدين صوفی سعيد ناگوری المعروف سلطان التاركين شيخ فخرالدين اجميری رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت بی بی حافظہ جمال دختر شان رحمتہ اللّٰه علیہحضرت خواجہ محمد يادگار سبزواری رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت شمس الدين التتمش رحمتہ اللّٰه علیہ بادشاہ ہندوستانحضرت شاہ فخرالدين گرديزی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت مولانا ضياء الدين بلخی رحمتہ اللّٰه علیہحضرت شہاب الدين محمد بن سام غوری رحمتہ اللّٰه علیہ فاتح دہلی

حضرت پير حاجی سيد علی شاہ بخاری رحمتہ اللّٰه علیہ♦️شجرہ طریقت خواجہ معین الدین چشتی♦️

پانچویں اور چھٹی صدی ہجری میں بعض بزرگان دین نے خراسان کے ایک قصبہ چشت میں رشد و ہدایت کا ایک سلسلہ شروع کیا٬ جو دور دور تک پھیلتا چلا گیا٬ یہ خانقاہی نظام طریقہ سلسلہ چشتیہ کے نام سے موسوم ہوا٬حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلمعلی کرم اللہ وجہہ

حضرت خواجہ حسن بصری رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ عبدالواحد بن زید رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ فضیل ابن عیاض رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ ابراہیم بن ادہم البلخی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ حذیفہ مرعشی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ ابو ہبیرہ بصری رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ ممشاد علوی دینوریؒ

حضرت خواجہ ابو اسحاق شامی رحمتہ اللّٰه

حضرت خواجہ ابو احمد ابدال رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ ابو محمد چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ ابو یوسف چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ قطب الدین مودود چشتی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ شریف زندانی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ عثمان ہارونی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت قطب الدین بختیار کاکی رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللّٰه علیہ

حضرت نصیر الدین محمود چراغ دہلوی رحمتہ اللّٰه علیہ☸️ تاریخ مشایخ چشت☸️

No comments:

Post a Comment