SAIFI MEDIA

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

تازہ ترین

ابوبکر صدیق

ابو بکر صدیق عبد اللہ بن ابو قحافہ تیمی قریشی (پیدائش: 573ء— وفات: 22 اگست 634ء) پہلے خلیفہ راشد، عشرہ مبشرہ میں شامل، پیغمبر اسلام کے وزیر، صحابی و خسر اور ہجرت مدینہ کے وقت رفیق سفر تھے۔ اہل سنت و الجماعت کے یہاں ابو بکر صدیق انبیا اور رسولوں کے بعد انسانوں میں سب سے بہتر، صحابہ میں ایمان و زہد کے لحاظ سے سب سے برتر اور ام المومنین عائشہ بنت ابی بکر کے بعد پیغمبر اسلام کے محبوب تر تھے۔ عموماً ان کی کنیت “ابو بکر” کے ساتھ صدیق کا لقب لگایا جاتا جسے ابو بکر صدیق کی تصدیق و تائید کی بنا پر پیغمبر اسلام نے دیا تھا۔



ابو بکر صدیق عام الفیل کے دو برس اور چھ ماہ بعد سنہ 573ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ دور جاہلیت میں ان کا شمار قریش کے متمول افراد میں ہوتا تھا۔ جب پیغمبر اسلام نے ان کے سامنے اسلام پیش کیا تو انہوں نے بغیر کسی پس و پیش کے اسلام قبول کر لیا اور یوں وہ آزاد بالغ مردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے کہلائے۔ قبول اسلام کے بعد تیرہ برس مکہ میں گزارے جو سخت مصیبتوں اور تکلیفوں کا دور تھا۔ بعد ازاں پیغمبر اسلام کی رفاقت میں مکہ سے یثرب ہجرت کی، نیز غزوہ بدر اور دیگر تمام غزوات میں پیغمبر اسلام کے ہم رکاب رہے۔ جب پیغمبر محمد مرض الوفات میں گرفتار ہوئے تو ابو بکر صدیق کو حکم دیا کہ وہ مسجد نبوی میں امامت کریں۔ پیر 12 ربیع الاول سنہ 11ھ کو پیغمبر نے وفات پائی اور اسی دن ابو بکر صدیق کے ہاتھوں پر مسلمانوں نے بیعت خلافت کی۔ منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد ابو بکر صدیق نے اسلامی قلمرو میں والیوں، عاملوں اور قاضیوں کو مقرر کیا، جا بجا لشکر روانہ کیے، اسلام اور اس کے بعض فرائض سے انکار کرنے والے عرب قبائل سے جنگ کی یہاں تک کہ تمام جزیرہ عرب اسلامی حکومت کا مطیع ہو گیا۔ فتنہ ارتداد فرو ہو جانے کے بعد ابو بکر صدیق نے عراق اور شام کو فتح کرنے کے لیے لشکر روانہ کیا۔ ان کے عہد خلافت میں عراق کا بیشتر حصہ اور شام کا بڑا علاقہ فتح ہو چکا تھا۔ پیر 22 جمادی الاخری سنہ 13ھ کو تریسٹھ برس کی عمر میں ابو بکر صدیق کی وفات ہوئی اور عمر بن خطاب ان کے جانشین ہوئے۔

تعارف

آپ کا اسلامی اسم گرامی عبد اللہ کنیت ابو بکر اور لقب صدیق اور عتیق ہیں۔ آپ کے والد کا نام عثمان اور کنیت ابو قحافہ ہے، والدہ کا نام سلمیٰ اور اور کنیت ام الخیر ہے۔ آپ کا تعلق قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم سے ہے۔ عہد جاہلیت میں آپ کا نام عبد الکعبہ تھا جو حضور نے بدل کر عبد اللہ رکھ دیا تھا۔[1] “آپ کے نام عبد الکعبہ” کی وجہ تسمیہ کچھ یوں بیان کی جاتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق آپ کے والدین کے لڑکے زندہ نہیں رہتے تھے، اس لیے انہوں نے نذر مانی کہ اگر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا اور زندہ رہا تو وہ اس کا نام “عبد الکعبہ” رکھیں گے اور اسے خانہ کعبہ کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے۔ چنانچہ جب آپ پیدا ہوئے تو انہوں نے نذر کے مطابق آپ کا نام “عبد الکعبہ” رکھا اور جوان ہونے پر آپ عتیق ( آزاد کردہ غلام) کے نام سے موسوم کیے جانے لگے کیونکہ آپ نے موت سے رہائی پائی تھی۔[2]

پیدائش

ابو بکر کی پیدائش عام الفیل سے دو سال چھ ماہ بعد اور ہجرت نبوی سے پچاس سال چھ ماہ پہلے بمطابق 573عیسوی مکہ میں ہوئی۔آپ پیغمبر اسلام محمد بن عبد اللہ سے دو سال چھ ماہ چھوٹے تھے۔[3] عائشہ بنت ابی بکر سے مروی ہے کہ محمد بن عبد اللہ اور ابو بکر میرے پاس بیٹھے اپنی ولادت کا تذکرہ فرما رہے تھے آپ دونوں کی گفتگو سے مجھے اندازہ ہوا کہ آپ، ابو بکر صدیق سے عمر میں بڑے ہیں۔[4]

سلسلہ نسب

والد کی جانب سے سلسلہ نسب یہ ہے۔ ابو قحافہ عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب [5] والدہ کی جانب سے سلسہ نسب یہ ہے۔ ام لخیر سلمی بنت صخر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ بن کعب[6] بعص لوگوں نے آپ کی والدہ کا سلسلہ نسب یہ بیان کیا ہے سلمیٰ بنت صخر بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تمیم بن مرہ مگر یہ غلط ہے اس لیے کہ اس صورت میں وہ ابو قحافہ کی بھتیجی ہو جائیں گی اور اہل عرب بھتیجی سے دور جاہلیت میں بھی نکاح نہیں کرتے تھے۔ آپ کے والد اور والدہ دونوں کی جانب سے حضور سے سلسلہ نسب ساتویں پشت میں مل جاتا ہے کیونکہ آپ کے والدین آپس میں عم زاد تھے۔محمد بن سعد کا قول ہے کہ ابو بکر کی والدہ کا نام لیلی بن صخر بن تھا۔[7]

کنیت ابو بکر کی وجہ تسمیہ

آپ کی کنیت ابو بکر کے بارے میں منقول ہے کہ چونکہ آپ اعلیٰ خصلتوں کے مالک تھے اس لیے آپ ابو بکر کے نام سے مشہور ہوئے جو بعد ازاں آپ کی کنیت ٹھہری۔ آپ کی کنیت ابو بکر کے بارے میں یہ سند پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتی کہ آپ کو سب سے پہلے ابو بکر کے نام سے کس نے پکارا۔[8] مورخین نے آپ کی کنیت کی مشہور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی لکھی کہ عربی میں بکر جوان اونٹ کو کہتے ہیں اور آپ کو چونکہ اونٹوں کی غور و پرداخت میں بہت دلچسپی تھی اور ان کے علاج و معالجے میں بہت واقفیت رکھتے تھے اس لیے لوگوں نے آپ کو ابو بکر کہنا شروع کر دیا جس کے معنی ہیں اونٹوں کا باپ۔[9] ابو کے معنی والا اور بکر کے معنی اولیت ہے اسی سے بکرہ یا باکرہ ہے۔ ابو بکر کے معنی ہوئے اولیت والے۔ چونکہ آپ ایمان، ہجرت، حضور کی وفات کے بعد وفات میں اور قیامت کے دن قبر کھلنے وغیرہ سب کاموں میں آپ ہی اول ہیں اس لیے آپ کو ابو بکر کہا گیا۔[10]

صدیق کی وجہ تسمیہ

آپ کے لقب صدیق کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ واقعہ معراج کے بعد قریش مکہ کو اپنی معراج سے آگاہ فرمایا تو انہوں نے آپ کی تکذیب کی۔ جب ابو بکر کو واقعہ معراج کے بارے میں پتا چلا تو آپ نے فرمایا میں معراج پر جانے کی تصدیق کرتا ہوں۔ چنانچہ محمد بن عبد اللہ نے آپ کی اس تصدیق کی وجہ سے آپ کو صدیق کا لقب عطا فرمایا۔ نودی نے علی سے روایت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ابو بکر کا لقب صدیق اس وجہ سے ہے کہ آپ ہمیشہ سچ بولا کرتے تھے، آپ نے محمد بن عبد اللہ کی نبوت کی تصدیق میں جلدی کی اور آپ سے کبھی کوئی لغزش نہیں ہوئی۔ابن سعد کی روایت ہے کہ جب معراج میں آپ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی تو آپ نے جبرائیل سے کہا کہ میری اس سیر کو کوئی تسلیم نہیں کرے گا۔ جبرائیل نے عرض کیا آپ کی تصدیق ابو بکر کریں گے کیوں کہ وہ صدیق ہیں۔ انس بن مالک سے مروی ہے کہ آپ جبل احد پر گئے اور آپ کے ہمراہ ابو بکر، عمر اور عثمان بھی تھے۔ احد پہاڑ پر زلزلہ آگیا۔ آپ نے اپنے پیر کی ٹھوکر لگائی اور فرمایا اے احد! ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔ علی نے ابو بکر کے وصال پر فرمایا کہ اللہ نے ابو بکر کا نام صدیق رکھا اور پھر آپ نے سورۂ الزمر کی آیت ذیل تلاوت فرمائی:

وہ جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس سچائی کی تصدیق کی وہی متقی ہیں۔[11]

عتیق کی وجہ تسمیہ

ابو بکر کے اسم گرامی کے بارے میں اکثر محدثین کا خیال ہے کہ آپ کا نام عتیق تھا۔ عتیق کا مطلب آزاد۔ جبکہ بیشتر محدثین کرام کا خیال ہے کہ عتیق آپ کا لقب تھا اور اس ضمن میں عائشہ کی روایت بیان فرماتے ہیں۔ آپ سے مروی ہے کہ ایک روز میں اپنے حجرہ میں موجود تھی اور باہر صحن میں کچھ صحابہ، آپ کے ہمراہ تھے۔ اس دوران میں ابو بکر آئے تو آپ نے فرمایا: جو لوگ کسی عتیق (آزاد) کو دیکھنا چاہیں وہ ابو بکر کو دیکھ لیں۔عبد اللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ محمد بن عبد اللہ نے ابو بکر کے بارے میں فرمایا کہ اللہ نے ابو بکر کو آگ سے آزاد کر دیا ہے۔ چنانچہ آپ کے اس فرمان کے بعد آپ عتیق کے لقب سے بھی مشہور ہوئے۔ لیث بن سعد سے منقول ہے کہ ابو بکر کو عتیق حسن و صورت وجہ سے کہا جاتا ہے۔[12] بعض علما کا قول ہے کہ چوں کہ آپ کے نسب میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو عیب سمجھی جا سکے پس سلسلہ نسب کے بے عیب ہونے کے سبب آپ کا نام عتیق مشہور ہوا۔ [5]

حضرت ابوبکر ؓ کے والد

ابوقحافہ عثمان بن عامر شرفائے مکہ میں سے تھے اور نہایت معمر تھے، ابتداً جیسا کہ بوڑھوں کا قاعدہ ہے ، وہ اسلام کی تحریک کو بازیچۂ اطفال سمجھتے تھے ؛چنانچہ حضرت عبد اللہ کا بیان ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی ہے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں حضرت ابو بکر ؓ کے گھر آیا، وہاں ابو قحافہ موجود تھے ، انہوں نے حضرت علی ؓ کو اس طرف سے گزرتے ہوئے دیکھ کر نہایت برہمی سے کہا کہ ان بچوں نے میرے لڑکے کو بھی خراب کر دیا۔ [13] ابوقحافہ فتح مکہ تک نہایت استقلال کے ساتھ اپنے اٰبائی مذہب پر قائم رہے ، فتح مکہ کے بعد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے وہ اپنے فرزند سعید حضرت ابوبکر ؓ صدیق کے ساتھ بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ضعف پیری کو دیکھ کر فرمایا کہ انہیں کیوں تکلیف دی ، میں خود ان کے پاس پہنچ جاتا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت شفقت سے ان کے سینہ پر ہاتھ پھیرا اور کلمات طیبات تلقین کرکے مشرف باسلام فرمایا، حضرت ابو قحافہ ؓ نےبڑی عمر پائی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنے فرزند ارجمند حضرت ابو بکر ؓ کے بعد بھی کچھ دنوں تک زندہ رہے، آخر عمر میں بہت ضعیف ہو گئے تھے ، آنکھوں کی بصارت جاتی رہی تھی ،؁ 14ھ میں 97 برس کی عمر میں وفات پائی ۔[14]

حضرت ابوبکر ؓ کی والدہ

حضرت ام الخیر سلمیٰ بنت صخر کو ابتداہی میں حلقہ بگوشان اسلام میں داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا، ان سے پہلے صرف انتالیس اصحاب مسلمان ہوئے تھے، یہ قلیل جماعت باعلان اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرسکتی تھی اور نہ مشرکین وکفار کو ببانگ دہل دین مبین کی دعوت دے سکتی تھی؛ لیکن حضرت ابوبکر ؓ کامذہبی جوش اس بے بسی پر نہایت مضطرب تھا،آپؓ نے ایک روز نہایت اصرار کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر مجمع عام میں شریعت حقہ کے فضائل ومحامد پر تقریر کی اور کفار ومشرکین کو شرک و بت پرستی چھوڑ کر اسلام قبول کرلینے کی دعوت دی، کفار ومشرکین جن کے کان کبھی ان الفاظ سے مانوس نہ تھے نہایت برہم ہوئےاورحضرت ابوبکرصدیق ؓ کونہایت بے رحمی اورخداناترسی کے ساتھ اس قدر مارا کہ بالآخربنی تیم کو باوجودمشرک ہونیکے اپنے قبیلہ کے ایک فرد کو اس حال میں دیکھ کر ترس آگیا اورانہوں نے عام مشرکین کے پنجۂ ظلم سے چھڑاکر ان کو مکان تک پہنچادیا، شب کے وقت بھی حضرت ابوبکرؓ باوجود درداور تکلیف کے اپنے والد اور خاندانی اعزہ کو اسلام کی دعوت دیتے رہے، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پتہ دریافت کرکے اپنی والدہ کے ساتھ ارقم بن ارقم ؓ کے مکان میں آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور وہ مشرف باسلام ہوگئیں۔[15] حضرت ام الخیر ؓ نے بھی طویل عمر پائی چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی خلافت تک زندہ رہیں ؛لیکن اپنے شوہر سے پہلے وفات پائی۔[16]

قبل اسلام

آپ بچپن سے اعتدال، پاکباز اور بلند اخلاق کے مرقع تھے

بچپن

آپ نے جس ماحول میں آنکھیں کھولیں وہ کفر و شرک اور فسق و فجور کا دور تھا، خانہ کعبہ کا متولی اور محافظ قبیلہ قریش بھی عرب کے دوسرے قبیلوں کی طرح کفر و شرک میں گلے تک دھنسا ہوا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ جب ابو بکر کی عمر چار سال تھی تو آپ کے والد ابو قحافہ آپ کو اپنے ساتھ بت خانہ لے گئے اور وہاں پر نصب ایک بڑے بت کی طرف اشارہ کر کے آپ سے فرمایا:

یہ ہے تمہارا بلند و بالا خدا اس کو سجدہ کرو۔

ننھے ابو بکر نے بت کو مخاطب بنا کر کہا:

میں بھوکا ہوں مجھے کھانا دے، میں ننگا ہوں مجھے کپڑے دے، میں پتھر مارتا ہوں اگر خدا ہے تو اپنے آپ کو بچا۔

بھلا وہ پتھر کیا جوب دیتا ابو بکر نے اس کو ایک پتھر اس زور سے مارا کہ وہ گر پڑا۔ ابو قحافہ یہ دیکھ کر غضبناک ہو گئے۔ انہوں نے ننھے ابو بکر کو رخسار پر تھپڑ مارا اور وہاں سے گھیسٹے ہوئے ام الخیر کے پاس لائے۔ انہوں نے ننھے بچے کو گلے لگا لیا اور ابو قحافہ سے کہا:

اسے اس کے حال پر چھوڑ دوجب یہ پیدا ہوا تھا تو مجھے اس کے بارے میں غیب سے کئی اچھی باتیں بتائی گئی تھیں۔

اس وقعے کے بعد کسی نے آپ کو بت پرستی وغیرہ پر مجبور نہیں کیا اور آپ کا دامن شرک سے پاک رہا۔ عرب میں لکھنے پڑھنے کا رواج نہ تھا اور بحثیت مجموعی عرب ایک ان پڑھ قوم تھے، البتہ خال خال لوگ پڑھنا لکھنا جانتے تھے اور سیدنا ابو بکر ان میں سے ایک تھے۔ قیاس یہ ہے کہ ابو قحافہ نے اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی۔ اس طرح آپ صرف نہ پڑھنا لکھنا جان گئے بلکہ شرفاء کے دوسرے اچھے مشاغل میں بھی آپ کو دسترس حاصل ہو گئی مثلاً لڑنے کا ڈھنگ، ہیتھاروں کا استعمال، شعر گوئی اور شعر فہمی، تجارت وغیرہ۔گھر میں دولت کی ریل پیل تھی لیکن آپ عیش و عشرت اور شراب خوری جیسے ذمائم سے ہمیشہ نفور رہے۔[17]

جوانی کے حالات

قریش کی ساری قوم تجارت پیشہ تھی اور اس کا ہر فرد اس شغل میں مصروف تھا۔ چنانچہ آپ نے بھی جوان ہو کر کپڑے کی تجارت شروع کر دی جس میں آپ کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا اور آپ کا شمار بہت جلد مکہ کے نہایت کامیاب تاجروں میں ہونے لگا۔ تجارت میں آپ کی کامیابی میں آپ کی جاذب شخصیت اور بے نظیر اخلاق کو خاصا دخل تھا۔[18] جب ابو بکر صدیق کی عمر اٹھارہ سال تھی تو آپ حضور نبی کریم کے ہمراہ تجارت کی غرض سے ملک شام گئے اور ایک مقام پر بیری کے درخت کے نیچے تشریف فرما ہوئے۔ قریب ہی ایک اہل کتاب راہب رہتا تھا سیدنا ابو بکر اس کے پاس گئے تو اس نے پوچھا کہ بیری کے درخت کے نیچے کون ہے؟آپ نے جواب دیا:

محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب

اس راہب نے کہا واللہ یہ نبی ہیں۔ اس درخت کے سائے میں مسیح کے بعد سوائے محمد نبی اللہ کے اور کوئی نہیں بیٹھا۔ یہ بات آپ کے دل میں جم گئی اور اسی دن سے انہوں نے حضور نبی کریم کی صحبت و محبت اختیار کر لی۔[19]ایک مرتبہ ابو بکر صحن کعبہ میں کھڑے تھے۔ اتنے میں امیہ بن ابی صلت ثقفی شاعر جو جاہلی دور میں موحدانہ نظمیں کہا کرتا تھا وہاں آیا اور آپ سے خطاب کر کے کہنے لگا جس نبی کی آمد کا انتظار ہے وہ ہم (اہل طائف) میں مبعوث ہوگا یا تم (قریش مکہ) میں؟ آپ نے کہا مجھے معلوم نہیں۔اس گفتگو کے بعد آپ تصدیق حال کے لیے ورقہ بن نوفل کے پاس گئے۔ یہ اکثر آسمان کی طرف دیکھتے رہتے تھے اور منہ میں کچھ گنگنایا کرتے تھے۔ ابو بکر نے امیہ بن ابی اصلت کا مقولہ پیش کر کے ان کا خیال معلوم کرنا چاہا۔ورقہ بن نوفل نے کہا:

ہاں بھائی مجھے علوم سموی پر عبور حاصل ہے جس نبی کی آمد کا انتظار ہے وہ وسطِ عرب کے ایک خاندان سے ظاہر ہو گا اور چونکہ میں علم نسب کا بھی ماہر ہوں اس بنا پر کہتا ہوں کہ وہ تمہارے اندر ہوگا۔

ورقہ کا بیان سن کر آپ کا اشتیاق و انتظار اور بڑھ گیا۔

ابو بکر صدیق نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ ایک چاند مکہ پر نازل ہو کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا اور اس کا ایک ایک ٹکڑا ایک ایک گھر میں داخل ہوا پھر یہ ٹکڑے باہم مل گئے اور مکمل چاند آپ کی گود میں آگیا۔ آپ بیدار ہوئے تو رؤیا کی تعبیر میں مہارت رکھنے والے ایک شخص کے پاس گئے اور اس سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ اس نے بتایا کہ اس نبی آخر الزمان کی پیروی کرو گے جس کا انتظار کیا جا رہا ہے اور تم اس نبی کے پیروؤں میں سب سے افضل ہو گے۔

ابن عساکر نے کعب سے روایت کی ہے کہ ابو بکر ایک مرتبہ بغرض تجارت ملک شام گئے، وہاں ایک عجیب خواب دیکھا۔ اس کی تعبیر دریافت کرنے کے لیے وہاں کے ایک مشہور راہب بحیرا راہب کے پاس گئے۔ بحیرا نے خواب سن کر کہا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ آپ نے جواب دیا مکہ۔ بحیرا نے پوچھا کس خاندان سے ہو؟ آپ نے فرمایا قریش سے۔ بحیرا نے پوچھا کیا کام کرتے ہو؟ آپ نے فرمایا تاجر ہوں۔ بحیرا نے کہا: “تو پھر سنو تمہارا خواب سچا ہے۔ تمہاری قوم میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث ہوں گے تم ان کی زندگی میں ان کے وزیر اور وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہو گے۔”[20] عہد جاہلیت میں قبیلہ قریش کی شاخ بنو تمیم کے معتلق دیت اور تاوان کا فیصلہ تھا۔ بنو تمیم میں ابو بکر صدیق خون بہا اور تاوان کا فیصلہ کرتے تھے جس کو آپ مان لیتے تمام قریش اس کو تسلیم کرتے اگر کوئی دوسرا اقرار کرتا تو کوئی بھی اس کا ساتھ نہیں دیتا۔ آپ اس شرف و فضیلت کے کہ وہ اپنے قبیلے کے سردار اور منجملہ دس سرداران قریش کے ایک سردار تھے۔ مال و دولت کے اعتبار سے بھی بڑے متمول اور صاحب اثر تھے۔ آپ قریش میں بڑے بامروت اور لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔ مصائب کے وقت صبر و استقامت سے کام لیتے اور مہمانوں کی خوب مدارات و توضع بجا لاتے۔ لوگ اپنے معاملات میں آپ سے آکر مشورہ لیا کرتے اور اپ کو اعلیٰ درجے کا صائب الرائے سمجھتے تھے۔ آپ انساب اور اخبار عرب کے بڑے ماہر تھے۔ [21]

شراب کی حرمت

آپ طبعاً برائیوں اور کمینہ خصلتوں سے محترز رہتے تھے۔ آپ نے جاہلیت میں اپنے اوپر شراب حرام کر لی تھی۔ آپ سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے کبھی شراب پی؟آپ نے فرمایا نعوذباللہ کبھی نہیں۔ اس نے پوچھا کیوں؟ آپ نے فرمایا میں نہیں چاہتا تھا کہ میرے بدن میں سے بو آئے اور مروت زائل ہو جائے۔ یہ گفتگو نبی کریم کی مجلس میں روایت ہوئی تو آپ نے دو مرتبہ فرمایا کہ ابو بکر سچ کہتے ہیں۔ [21]ام امومنین عائشہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو بکر صدیق نے دور جاہلیت سے ہی اپنے اوپر شراب کو حرام قرار دیا تھا اور آپ نے کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔

ابو بکر صدیق فرماتے ہیں کہ دور جاہلیت میں میرا گذر ایک مدہوش آدمی کے پاس سے ہوا جو غلاظت میں اپنا ہاتھ ڈالتا اور پھر اسے منہ کے پاس لے جاتا۔ جب اس کو اس غلاظت کی بدبو محسوس ہوتی تو وہ ہاتھ منہ میں ڈالنے سے رک جاتا۔ میں نے جب دیکھا تو اس وقت سے شراب کو خود پر حرام کر لی۔[22]

قبول اسلام

ابو بکر صدیق کے ایمان لانے اور اس کے اسباب میں بہت سے اقوال ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعث سے بیس سال پہلے آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ چاند آسمان سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر کعبہ میں گرا۔ مکہ کے ہر گھر ایک ایک ٹکڑا گرا پھرتمام ٹکڑے اکھٹے ہو کر پہلی شکل پر آگئے اور آسمان کی طرف چلے گئے مگر وہ ٹکڑا جو آپ کے گھر آیا تھا وہیں رہ گیا اور دوسری روایت میں ہے کہ وہ تمام ٹکڑے مل کر آپ کے گھر آگئے اور آپ نے آپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا۔ ان انوار کے حالات دریافت کرنے کے کیے علی الصبح ایک یہودی ایک عالم کے پاس گئے اور اس سے تعبیر پوچھی۔ یہودی عالم نے کہا یہ اضغاث و احلام میں سے ہے جس کا کوئی اعتبار نہیں۔ کچھ عرصہ اسی طرح گذرا، اپنی تجارت کے سلسلے میں بحیرا راہب کی خانقاہ میں پہنچے اور راہب سے اپنے خواب کی تعبیر پوچھی۔ راہب نے کہا آپ کون ہیں؟ آپ نے کہا میں قریشی ہوں۔ راہب نے کہا مکہ میں تمہارے درمیان میں ایک پیغمبر ظاہر ہوگا اس کا نور ہدایت مکہ کے ہر گھر میں پہنچے گا، آپ ان کی زندگی میں ان کے وزیر ہوں گے اور پیغبر کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ ہوں گے۔ابوبکر صدیق نے کہا میں خواب کو پوشیدہ رکھتا تھا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ نے واقعی پیغبر کو خلق کی خدمت کے لیے بھیجا۔ جب مجھے آپ کے ظہور کی خبر ملی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آن نے مجھے اسلام کی دعوت دی، میں نے عرض کہ ہر پیغبر کی نبوت پر دلیل ہوتی تھی آپ کی کیا ہے؟نبی کریم نے فرمایا کہ میری نبوت کی دلیل وہ خواب ہے جو تم نے دیکھا تھا اور یہودی عالم نے کہا تھا اس کا کوئی اعتبار نہیں بحیرا راہب نے اس کی اس طرح تعبیر کی تھی۔ میں نے ہوچھا آپ کو اس کی کس نے خبر دی ہے؟آپ نے فرمایا مجھے جبرائیل نے اطلاع دی ہے۔ میں نے کہا اس سے زیادہ میں آپ سے کوئی دلیل و برہان نہیں پوچھتا اور آپ نے کلمہ شہادت پڑھ لیا۔

درخت کی گواہی

صدیق سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں ایک روز ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا اس درخت کی ایک شاخ میری طرف اس قدر جھکی کہ میرے سر کے ساتھ آ لگی میں اسے دیکھتا رہا اور سوچتا رہا کہ یہ کیا چاہتی ہے اس درخت سے میرے کان میں آواز سنائی دی کہ ایک پیغمبر فلاں وقت میں ظاہر ہو گا لوگ اس پر ایمان لائے گے تجھے چاہیے کہ ان میں سب سے نیک بخت بنے۔میں نے اس سے کہا کہ وضاحت سے بیان کر کہ وہ پیغمبر کون ہے، اس کا نام کیا ہے؟اس نے کہا محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم۔میں نے کہا وہ میرا دوست، حبیب اور ساتھی ہے۔ میں نے اس درخت سے وعدہ لیا کہ جب وہ مبعوث ہوں مجھے خوشخبری دے۔ جب نبی کریم مبعوث ہوئے اس درخت سے آواز آئی اے ابو قحافہ کے بیٹے! مستعد ہو جا اور کوشش کر، کیونکہ اس کی طرف وحی آ گئی ہے۔ مجھے رب موسیٰ کی قسم ہے کہ کوئی تجھ سے سبقت نہیں لے جائے گا۔ جب صبح ہوئی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: اے ابو بکر! میں تجھے خدا اور رسول کی طرف بلاتا ہوں میں نے کہاانّك رسول اللہ بالحق بعثك سراجاً منیرا، ً پس آپ پر ایمان لے آیا اور آپ کے قول کی تصدیق کی۔

تدبیر الہی

ایک دوسری روایت یہ ہے کہ جب خواجۂ لولاک کے جسد ہمت پر انٌا ارسلناك کی خلعت آراستہ ہوئی تو آپ نے سوچا کوئی ایسا راز داں چاہیے جو اس بات کے سننے کی طاقت رکھتا ہو اور مصلحت کی جانب کو ترک نہ کرے پس ابو بکر کی دوستی نے جو نبی کریم کے دل مبارک میں درجۂ اعتبار کو پہنچی ہوئی تھی اشارہ کیا کہ ابو بکر کمال عقل سے موصوف اور حسن اعتقاد اور دوستی کے خلوص کے ساتھ معروف ہے اس بات کی اہلیت رکھتا ہے کہ اس امر میں راز داں بنایا جائے۔ آپ نے پختہ ارادہ کر لیا کہ صبح اس کے پاس جائیں گے اور اس راز سے اس کو آگاہ کریں گے۔ابو بکر ساری رات اس سوچ میں مستغرق رہے کہ یہ دین جو ہمارے آبا و اجداد کا پسندیدہ ہے فطرت سلیم اور عقل کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے اور ایسی چیز کی عبادت کا کیا فائدہ جو نہ نقصان کو دور کر سکتی ہو نہ ہی نفع بخش ہو خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور بسائط ابرار کی روشن رائے کا موجد ہے عبادت کا حقدار کیوں نہیں ہے۔انہوں نے فیصلہ کیا کہ صبح سید ابرار کی روشن رائے سے جو خدائی فیض اور توفیق الہی کی جائے نزول ہے، ہدایت اور مشورہ حاصل کرے اور اس راز کو ان کی مجلس میں کھولے۔دونوں ایک دوسرے کی ملاقات کے ارادے سے چل پڑے، راستہ میں دونوں کی ملاقات ہو گئی انھوں نے کہا “اجتمعنا غیر میعاد”۔ پیغمبر نے فرمایا: میں ایک بھلائی کے مشورہ کے لیے آ رہا تھا۔ ابو بکر نے عرض کی میں بھی ایک دینی مہم میں آپ کی خدمت میں آ رہا تھا، نبی کریم نے فرمایا راز سے پردہ اٹھائیے، ابو بکر نے عرض کی ہر کام میں آپ پیش رو ہیں پہلے آپ اظہار فرمائیں۔ پیغمبر نے فرمایا کل فرشتہ مجھ پر ظاہر ہوا اور خدا کا پیغام لایا کہ لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاؤ، میں حیران ہو، تمہارے پاس آیا ہوں کہ تم کو راہنمائی کرو۔ دعوت کے سلسلے میں جو تمہاری رائے ہو اس کے مطابق عمل کریں گے۔ابو بکر نے عرض کی: پہلے مجھے دین کے شرف سے سرفراز کریں کہ کل سے میں سوتے جاگتے اسی فکر میں ہوں اور آج آپ سے یہ بات سن رہا ہوں۔پیغمبر اسلام اس بات سے خوش ہوئے فی الفور اسلام پیش کیا اور ابو بکر نے اسلام کی دعوت کو قبول کر لیا۔ مومنین کے پیشرو اور سب سے پہلے اسلام لانے والے بنے۔

یمن کا بوڑھا

حصص الاتقیاء میں عبد اللہ بن مسعود سے ابو بکر کا ایک قول نقل کیا گیا ہے کہ بعث سے پہلے میں تجارت کی غرض سے ملک یمن کی طرف گیا، قبیلہ ازد کے ایک تین سو نوے سالہ بوڑھے کے پاس اترا جس نے آسمانی کتابیں پڑھی ہوئی تھیں۔ جب اس جہاں دیدہ بوڑھے نے مجھے دیکھا اس نے کہا میرا خیال ہے کہ تم حرم کعبہ سے تعلق رکھتے ہو۔ میں نے کہا ہاں۔ اس نے پوچھا کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہو؟ میں نے کہا بنی تمیم سے۔ اس نے کہا: ایک نشانی باقی رہ گئی۔ میں نے پوچھا وہ کونسی ہے؟ اس نے کہا اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھائیے۔ میں نے کہا جب تک اپنا مقصد بیان نہیں کرتے میں نہیں اٹھاؤ گا۔ اس نے کہا میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ حرم میں ایک پیغمبر مبعوث ہو گا اس کے دو معاون ہوں گے ایک جوان، دوسرا ادھیڑ عمر سفید چہرے لاغر جسم کا ہو گا۔ اس کے پیٹ پر داغ بائیں ران کی طرف نشانی ہے۔ میرا خیال ہے کہ وہ شخص تم ہو، میں چاہتا ہوں کہ اس داغ کو تمہارے پیٹ پر دیکھوں۔ ابو بکر نے فرمایا میں نے کپڑا پیٹ سے اٹھایا میں نے دیکھا کہ میری ناف کے اوپر ایک سیاہ خال ہے۔ اس نے کہا رب کعبہ کی قسم وہ ادھیڑ عمر آپ ہی ہے، اس نے مجھے شفقت سے وصیت کی تھی کہ یمن میں اپنا کاروبار کی تکمیل کے بعد اسے الوداع کہنے کے لیے آؤ۔ جب میں اس کے پاس آیا۔ اس نے کہا میرے پاس اس پیغمبر کی تعریف میں چند اشعار ہے ہیں آپ ان کو آن کی خدمت میں پہنچا دیں گے؟ میں نے کہا ہاں پہنچا دو گا۔ اس نے بارہ اشعار مجھے پڑھ کر سنائے۔ ابو بکر صدیق نے کہا میں نے اشعار اس پیر مرد سے یاد کر لیے اور اس کی وصیتوں کو قبول کیا اور مکہ میں واپس آگیا۔ جب میں اپنے گھر میں آیا تو عتبہ بن ابی مغیظ و شیبہ اور ابو النجتری اور چند اور قریشی آئے ہوئے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کوئی نئی چیز آپ کے ہاں پیدا ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا اس سے زیادہ کیا عجیب بات کیا ہو گی کہ ابو طالب کے یتیم نے اٹھ کر پیغمبری کا دعوی کر دیا ہے اور ہمیں کہتا ہے کہ تم باطل ہو اور تمھارے آبا و اجداد بھی باطل پر تھے اگر آپ کی امداد و اعانت اسے نہ ہوتی تو تو ہم اسے امن نہ دیتے۔ اب جبکہ آپ خود تشریف لے آئے ہیں خود ہی اس کام کو پائیہ تکمیل تک پہنچائے کیونکہ وہ آپ کا دوست ہے۔ جب میں نے ان سے یہ بات سنی تو ان کو معذرت کر کے واپس کر دیا۔ میں نے پوچھا محمد کہا ہیں؟ انھوں نے بتایا خدیجہ بنت خویلد کے گھر میں ہیں۔ میں جا کر دروازہ پر بیٹھا رہا جب مصطفٰی باہر نکلے تو میں نے کہا یا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! یہ کیا ہے جو آپ کی طرف سے باتیں بیان کی جاتی ہیں؟ پیغمبر نے فرمایا اے ابو بکر! میں خدا تعالی کا رسول ہوں آپ مجھ پر دوسرے لوگوں کے ساتھ ایمان لے آئیے تا کہ خدا تعالی کی خوشنودی حاصل کر سکیں اور دوزخ سے ہمیشہ کے لیے چھوٹ جائیں۔ میں نے کہا آپ کے پاس برہان و دلیل کیا ہے؟آپ نے فرمایا میری دلیل وہ بوڑھا ہے جسے آپ یمن میں ملے تھے۔ انہون نے کہا میں بہت سے بوڑھوں سے ملا ہوں اور ان سے خرید و فروخت کی کی ہے۔ آن نے فرمایا وہ بوڑھا جس نے بارہ اشعار بطور امانت تمھیں دیے اور میرے پاس بھیجے اور وہ بارہ اشعار آپ نے ابو بکر کو سنائے۔ ابو بکر نے عرض کی : کس نے آپ کو اس حال کی خبر دی؟ آن نے فرمایا مجھے اس بزرگ فرشتے نے بتایا جو مجھ سے پہلے تمام پیغمبروں پر اترا تھا۔ میں نے کہا ہاتھ بڑھائیے، میں نے آپ کا دست مبارک پکڑ کر کہا

اشہدان لا الہ الا اللہ واشہد انک رسول اللہ

میں خوشی خوشی گھر لوٹا۔[23]

قبول اسلام میں شرف

سیدنا ابو بکر صدیق اسلام قبول کرنے والے دوسرے شخص تھے۔ آپ سے پہلے حضور نبی کریم کی زوجہ ام امومنین خدیجہ بنت خویلد نے اسلام قبول کیا تھا۔علی المرتضی سے کسی نے پوچھا کہ مہاجرین و انصار نے سیدنا ابو بکر کی بیعت میں سبقت کیوں کی جبکہ آپ کو ان پر فوقیت حاصل تھی۔ علی المرتضیٰ نے جواب دیا کہ سیدنا ابو بکر کو چار باتوں میں فوقیت حاصل تھی۔ میں ان کا ہمسر نہیں تھا، اسلام کا اعلان کرنے میں، ہجرت میں پہل کرنے میں، غار میں حضور نبی کریم کے ساتھ ہونے اور علانیہ نماز پڑھنے میں وہ مجھ سے آگے تھے۔ انہوں نے اس وقت اسلام کا اظہار کیا جب میں اسے چھپا رہا تھا۔ قریش مجھ کو حقیر سمجھتے تھے جبکہ وہ ابو بکر کو پورا پورا وزن دیتے تھے۔ اللہ کی قسم! اگر سیدنا ابو بکر کی یہ خصوصیات نہیں ہوتی تو اسلام اس طرح نہ پھیلتا اور طالوت کے ساتھیوں نے نہر سے پانی پی کر جس کردار کا اظہار کیا تھا اسی طرح کے کردار کا اظہار لوگ یہاں بھی کرتے۔ دیکھتے نہیں کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کو ڈانتا وہاں سیدنا ابو بکر کی تعریف بھی کی۔

امام جلال الدین سیوطی بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم امام ابو حنیفہ کی رائے ہے اور اس کی تائید ترمذی شریف کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے اسلام ابو بکر صدیق نے قبول کیا، عورتوں میں سب سے پہلے اسلام ام المومنین خدیجہ نے قبول کیا جبکہ بچوں میں سب سے پہلے اسلام سیدنا علی امرتضیٰ نے قبول کیا۔[24]سب سے پہلے جن ہستیوں نے قبول اسلام کی دعوت پر لبیک کہا وہ تھیں —- ابو بکر صدیق، خدیجۃ الکبرٰی، علی المرتضٰی اور زید بن حارثہ۔خدیجہ نبی کریم کی اہلیہ تھیں، علی نبی کریم کے نابالغ چچا زاد بھائی تھے اور آپ کے زیر کفالت تھے۔ زید بن حارثہ پہلے حضور نبی کریم کے غلام تھے پھر آپ نے ان کو آزاد کر دیا لیکن انہوں نے آپ کا خادم بن آپ کے پاس ہی رہنے کو ترجیح دی۔ چنانچہ حضور نبی کریم نے ان کو اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ اس لحاظ سے تینوں حضور نبی کریم کے گھر کے افراد تھے۔ ابو بکر صدیق گھر سے باہر کے آدمی تھے تاہم انہوں نے عامۃ الناس میں سب سے پہلے قبول اسلام کا شرف کیا، اس لیے اول المسلمین کہلائے۔[25]

صدیق کی کوششوں سے اسلام لانے والے

بزرگان فن سیر نے لکھا ہے کہ ابو بکر صدیق مسلمان ہونے کے بعد اپنے پرانے رفیقوں اور دوستوں میں سے جس سے بھی ملتے اسے ہدایت کا راستہ اختار کرنے کی ترغیب دیتے۔ واضح نشانات اور مضبوط دلائل کے ساتھ پیغمبر کی نبوت کی صداقت کو ان کے سامنے پیش کرتے، اکابر قریش اور عرب کے سرداروں کی ایک جماعت آپ کی مبارک ہمت کی برکت سے گمراہی کی وادی سے چشمہ ہدایت پر پہنچی۔صدیق اکبر کی بیٹی اسماء بنت ابی بکر ذات النطاقین فرماتی ہیں کہ ہمارے ابا جان جس روز ایمان لائے گھر آئے اور ہم سب کو اسلام کی دعوت دی جب تک ہم سب دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہو گئے اور رسول اللہ کی تصدیق اور دین توحید کو قبول نہیں کر لیا مجلس سے نہیں اٹھے۔

عشرہ مبشرہ میں سے پانچ آدمی عثمان بن عفان، زبیر بن عوام، طلحہ بن عبید اللہ، سعد بن ابی وقاص اور عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم اجمین آپ کی راہنمائی اور ترغیب سے دولت اسلام سے سرفراز ہوئے۔

  • عثمان بن عفان کا ایمان لانا:

عثمان بن عفان نے کہا: سعدی بنت کزیز بن ربیعہ میری خالہ تھی جو کہانت میں مہارت رکھتی تھی میں ایک روز اس کے گھر گیا، تو اس نے مجھے کاہنوں کے انداز میں کہا تمہاری دو عورتیں ہوں گی، دونوں خوبصورت اور حسین، دونوں ایک دوسرے کے لائق، نہ تو نے ان سے پہلے عورت دیکھی ہوگی اور نہ انہوں نے خاوند یہ عورتیں ایک بڑے پیغمبر کی بیٹیاں ہوں گی، مجھے اس بات سے حیرانی ہوئی اور اسے نا ممکن سمجھا۔ دوسری مرتبہ بھی کہانت کے طور پر اس نے مجھے کہا:

محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مبعوث ہو گئے ہیں لوگوں کو خدا کے دین کی طرف بلاتے ہیں، زیادہ مدت نہیں گزرے گی کہ تمام دنیا میں اس کی ملت کا نور پھیل جائے گا۔ جو شخص اس کی نافرمانی کرے گا اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔

میں نے جب اس سے یہ باتیں سنی آپ کی محبت میرے دل میں پیدا ہوئی، میں متفکر ہو گیا۔ میرے اور ابو بکر کے درمیان میں دوستی تھی۔ دو روز کے بعد ان کے پاس گیا اور اپنی خالہ کی بات ان سے بیان کی۔ ابو بکر نے کہا:

اے عثمان! آپ عقل مند اور ہوشیار آدمی ہیں، ہر کام کے انجام میں صاحب اعتبار ہیں، آپ سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہو گی کہ چند پتھر جو نہ بولتے ہیں نہ سنتے ہیں، نہ کسی کو نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں وہ خدا کیسے بن سکتے ہیں۔

میں نے کہا آپ نے درست فرمایا۔ آپ نے کہا آپ کی خالہ نے سچ فرمایا خدا تعالی نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخلوق کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے، غنیمت جان اور دولت ایمان حاصل کرنے میں تاخیر نہ کر۔ ہم اسی گفتگو میں تھے پیغمبر ادھر سے گذرے، ساتھ میں علی بن ابی طالب بھی تھے۔ ابو بکر اٹھے اور رسول اللہ سے تنہائی میں بات کی، آپ تشریف لائے اور ہمارے نزدیک بیٹھ گئے، میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

خدا تعالی تجھے جنت کی مہمانی کے لیے بلاتا ہے تو بھی اسے قبول کر۔

آپ کی بات نے فوراً میرے دل میں اثر کیا۔ میں نے کلمہ پڑھ لیا۔ اس کے بعد حضور نبی کریم کی صاحبزادی رقیہ بنت محمد سے شرف عقد حاصل ہوا۔ کئی مرتبہ مجھے اپنی خالہ کی بات یاد آئی۔

ان کے علاوہ ابو بکر صدیق کی کوششوں سے اور راہنمائی سے ابوعبیدہ ابن جراح، عثمان بن مظعون، ارقم بن ابو الارقم اور ابو سلمہ عبد اللہ بن عبد الاسد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔[26]

غرباء، مساکین اور مظلوموں کی امداد

اعلان نبوت کے چوتھے سال جب علانیہ دعوت اسلام کا حکم نازل ہو تو رسول اللہ نے لوگوں کو علانیہ حق کی جانب بلانا شروع کر دیا۔ اس پر مشرکین قریش بھڑک اٹھے اور انہوں نے مسلمانوں پر بے تحاشا ظلم و ستم ڈھانا شروع کر دیے۔ بالخصوص اسلام قبول کرنے والے غلاموں اور لونڈیوں پر انہوں نے ایسے ایسے ظلم ڈھائے کہ انسانیت سر پیٹ کر رہ گئی۔ ظلم و ستم کے اس دور میں ابو بکر صدیق نے بےدریغ مال خرچ کر کے متعدد مظلوم غلاموں اور لونڈیوں کو ان کے سنگدل آقاؤں سے خرید خرید کر آزاد کروایا۔ ارباب سیر نے ایسے درج ذیل افراد کے نام خصوصیات سے لیے ہیں جنھیں ابو بکر صدیق کے دست کرم نے فی سبیل اللہ نعمت آزادی سے بہرہ ور کیا۔ ان کے نام یہ ہیں۔

بلال بنو جمح کے ایک مشرک امیہ بن خلف کے غلام تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اس ظالم نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی۔ وہ آپ کو دوپہر کے وقت مکہ(حرہ) کی تپتی ہوئی ریت پر لیٹاتا اور ایک بھاری پتھر آپ کے سینے پر رکھ دیتا اور کہتا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی پیروی سے باز آ جا اور لات اور عزی کو معبود برحق ہونے کا اقرار کر لے، ورنہ اسی طرح پڑا رہے گا۔ اس کے جواب میں آپ احد احد ہی کیے چلے جاتے۔ شقی القلب امیہ بیکس بلال کے لیے ہر روز نیا عذاب تجویز کرتا۔ کبھی آپ کو لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں ڈال دیتا، کبھی آپ کے ہاتھ پاؤں باندھ کر تاریک کوٹھری میں ڈال دیتا اور تازیانے رسید کرتا رہتا، کبھی آپ کے گلے میں رسی ڈال کر محلہ کی لونڈیوں کے سپرد کر دیتا کہ وہ آپ کو مکہ کی گلیوں اور پہاڑوں میں گھسیٹتی پھرتی پھر انہیں لوہے کی طرح گرم ریت پر اوندھے منہ لٹا دیتے اور پھر آپ پر پتھروں کا ڈھیر لگا دیتے۔ ایسے ہی سخت عذاب دے دے کر آپ کو اسلام سے روگردانی کا کہا جاتا لیکن آپ احد احد ہی کہتے رہتے۔ ابو بکر صدیق کا گھر بنو جمح کے محلے میں ہی تھا۔ وہ ہر روز شیدائے حق بلال کو طرح طرح کی عقوبتوں میں مبتلا دیکھتے تو ان کو سخت دکھ ہوتا۔ آخر ایک دن آپ نے بلال کو ایک معقول رقم کے عوض امیہ سے خرید لیا اور آزاد کر دیا۔ ایک اور روایت ہے کہ ابو بکر صدیق نے اپنے ایک تنو مند غلام اور چالیس اوقیہ چاندی کے بدلے بلال کو خریدا اور آزاد کیا۔

  • حمامہ:

حصرت بلال کی والدہ تھیں اور آپ پر بھی قبول حق کے جرم میں ظلم ڈھائے جاتے تھے۔

آپ بنو زہرہ کی لونڈی تھیں اور آپ پر قبول حق کے جرم میں اسود بن عبد یغوث طرح طرح کے ظلم ڈھاتا تھا۔

آپ عائشہ کے ماں جائے بھائی طفیل کے غلام تھے۔ اسلام قبول کرنے پر طفیل آپ پر طرح طرح کے ظلم ڈھاتا اور مارتا پیٹتا رہتا تھا۔

  • نہدیہ اور آپ کی بیٹی

ماں اور بیٹی دونوں بنی عبد الدار کی ایک عورت کی لونڈیاں تھیں۔ یہ عورت آپ دونوں پر بہت سختیاں کرتی تھی اور اسلام چھوڑنے پر مجبور کرتی تھی۔

امیہ بن خلف اور اس کا بیٹا صفوان بن امیہ آپ کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر دوپہر کے وقت تپتی ہوئی ریت پر اوندھے منہ لٹا دیتے اور ان کی پیٹھ پر بھاری پتھر رکھ دیتے۔ کبھی آپ کا گلہ اس زور سے گھونٹتے کہ آپ بے ہوش ہو جاتے۔

آپ بنی مومل (بنو عدی کی ایک شاخ) کی ایک لونڈی تھی۔ عمر بن خطاب اپنے زمانہ کفر میں آپ کو قبول حق کے جرم میں بہت مارا کرتے تھے۔

آپ بنو مخزوم کی لونڈی تھیں اور ابو جہل آپ کو سخت عذاب دیا کرتا تھا یہاں تک کہ آپ کی بینائی جاتی رہی اس پر ابو جہل نے آپ کو طعنہ دیا کہ لات و عزی نے تجھے اندھا کر دیا۔ آپ نے مومنانہ شان کے ساتھ جوب دیا، ہرگز نہیں، لات اور عزی کو تو اپنی خبر بھی نہیں وہ کیا جانیں انہیں کون پوجتا ہے اور کون نہیں پوجتا، ہاں میرا اللہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ میری بینائی واپس دے دے چنانچہ وہ دوسرے روز اٹھی تو اللہ نے آنکھیں روشن کر دی تھیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ کی بینائی اس وقت گئی جب ابو بکر نے آپ کو خرید کر آزاد کیا۔ کفار نے طعن و شنیع کی لیکن آپ اسلام پر قائم رہیں۔ آپ کے صدق نیت کی بدولت اللہ تعالی نے بہت جلد بینائی بہال کر دی۔[27]

  • ابو نافع:

آپ جب دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تو آپ پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے گئے۔ ابو بکر نے آپ کو خرید کر آزاد فرمایا۔

  • مرہ بن ابو عثمان:

آپ کو ابو بکر نے خرید کر آزاد فرمایا۔ آپ کو عراق کی فتح کے بعد بصرہ کے قریب ایک جریب کی جاگیر عطا کی گئی جہاں آپ کی نسل آج بھی موجود ہے۔

  • سلیمان بن بلال:

آپ نہایت حسین و جمیل تھے۔ ابو بکر نے آپ کو خرید کر آزاد فرمایا۔ آپ سے بہت سی احادیث مروی ہے۔ آپ کا وصال مدینہ منورہ میں ہوا۔

  • سعد:

آپ ابو بکر صدیق کے غلام تھے اور ابو بکر صدیق نے آپ کو رسول اللہ کے حکم پر آزاد کیا۔ امام حسن بصری، امام ترمذی وغیرہ نے آپ سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔

  • شدید:

آپ کو ابو بکر صدیق نے خرید کر آزاد فرمایا تھا۔امام احمد نے قیس بن ابی حازم کے حوالے سے روایت کی ہے کہ میں نے دیکھا عمر فاروق کے ہاتھ میں کھجور کی ایک ٹہنی تھی جس کے ذریعے وہ لوگوں کو بیٹھا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ نبی کریم کے خلیفہ کی وصیت سنو۔ تب ابو بکر صدیق کے آزاد کردہ غلام شدید آئے اور ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ تھا جو انہوں نے لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس صحیفے میں ابو بکر صدیق کا ایک قول تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اللہ گواہ ہے میں نے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی نہیں کی اور میں تمہیں اللہ عزوجل کی اطاعت کا حکم دیتا ہوں۔

  • کثیر بن عبید التیمی:

آپ کا شمار بھی ابو بکر صدیق کے آزاد کردہ غلاموں میں ہوتا ہے۔ ابن حبان نے آپ کا شمار ثقہ راویوں میں کیا ہے اور ان سے ایک حدیث بھی روایت کی ہے جو انہوں نے انس سے سنی تھی۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے امیدیں وابستہ رکھے گا اور مجھے پکارتا رہے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا۔[28]

علامہ ابن جریر طبری اور ابن عساکر نے عامر بن عبد اللہ بن زبیر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ابو قحافہ نے اپنے فرزند کو غریب لونڈیوں اور غلاموں کی آزادی پر بے تحاشا دولت خرچ کرتے دیکھا تو انہوں نے اپنے بیٹے ابو بکر کو کہا:

بیٹا ایسے کمزور لوگوں کو آزاد کرانے کا کیا فائدہ؟ اگر تم چست اور تنومند غلاموں کو آزاد کراتے تو وہ تمہارے احسان مند رہتے اور مشکل وقت میں تمہارے کام آتے۔

ابو بکر صدیق نے جواب دیا:

ابا جان! میں کسی دنیاوی فائدے کے لیے ان کو آزاد نہیں کراتا میں تو اس کا وہ اجر چاہتا ہوں جو اللہ کے پاس ہے۔

جب مشرکین نے دیکھا کہ ابو بکر نے اپنے آپ کو ہمہ تن اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر دیا ہے اور اپنی دولت کو مسلمان ہونے والے غلاموں اور لونڈیوں کو آزاد کرانے میں بے دریغ خرچ کر رہا ہے تو انہوں نے آپ سے “اشناق” کا منصب چھین لیا لیکن آپ نے اس کی پروا نہیں کی اور برابر اپنے کام میں مصروف رہے۔[29]

کفار کے ظلم کی انتہا

آغاز اسلام میں اکثر ابو بکر صدیق رسول اللہ سے عرض کرتے: کیوں نا ہم لوگوں کے سامنے اپنے ایمان و عقیدہ کا برملا اظہار کریں۔ آخر کب تک ہم چھپتے چھپاتے رہیں گے۔رسول اللہ ابو بکر کی بات سن کر صرف اتنا فرماتے:

ابو بکر! ابھی ہماری تعداد تھوڑی سی ہے۔

سیدنا ابو بکر بار بار رسول اللہ سے برملا اظہار کرنے کے بارے میں اصرار کرتے رہتے۔ بالآخر رسول اکرم نے انہیں اجازت دے دی۔ چنانچہ سارے مسلمان خانہ کعبہ کے ارد گرد پھیل گئے اور اپنے اپنے خاندان والوں کے ساتھ جا کر بیٹھ گئے۔ ابو بکر صدیق اٹھے اور فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا۔ یہ پہلا خطبہ تھا جو دین اسلام میں پڑھا گیا، اس خطبہ میں اسلام کی دعوت تھی، مشرکین کو بہت ناگوار گذرا۔ وہاں موجود سارے مشرکین سیدنا ابو بکر اور مسجد حرام میں موجود دوسرے مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے اور بری طرح سے مارنے لگے۔ ابو بکر مار کھاتے کھاتے زمین پر گر گئے تھے۔ عتبہ بن ربیعہ کا راویہ سیدنا ابو بکر کے ساتھ گھناؤنا تھا۔ اس فاسق نے اپنے پیوند لگے دونوں جوتوں سے ابو بکر صدیق کو منہ اور پیٹ پر اتنا مارا کہ کثرت خون سے ابو بکر کی ناک آپ کے چہرے سے پہچانی نہیں جاتی تھی۔ جب آپ کے قبیلے بنو تمیم کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ آپ کی مدد کو پہنچ گئے۔ انہوں نے مشرکین کو آپ سے اٹھایا اور ایک کپڑے میں ڈال کر آپ کو لے گئے۔ آپ کو اتنی شدید مار پڑھی تھی کہ بنو تمیم کو یقین تھا اب آپ کی موت یقینی ہے۔ بنو تمیم آپ کو گھر پہنچا کر مسجد حرام میں واپس آئے اور کہنے لگے:

اللہ کی قسم! اگر ابو بکر مر گے تو ہم عتبہ بن ربیعہ کو ضرور قتل کر ڈالیں گے۔

بنو تمیم مسجد حرام میں برسرعام یہ دھمکی دے کر سیدھے ابو بکر کے گھر گئے۔ ابو قحافہ اور بنو تمیم کے لوگوں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح ابو بکر کی زبان کھل جائے اور وہ کچھ بات کریں۔ سارے اسی انتظار میں اس کے ارد گرد بیٹھے تھے جب دن کے آخری پہر آپ کو کچھ افاقہ ہوا اور زبان کھولی، پہلا جملہ جو آپ کی زبان سے نکلا وہ یہ تھا:

رسول اکرم ﷺ کا کیا ہوا؟ وہ کیسے ہیں۔

جب آپ نے یہ کہا تو قوم کے لوگوں کو قدرے غصہ بھی آیا اور آپ کو ملامت کرتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔جب بنو تمیم آپ کے پاس سے نکل گئے تو صرف آپ کی ماں آپ کے پاس رہ گئی۔ وہ بیٹے سے اصرار کرتی رہی کہ کھانا کھا لو لیکن آپ اپنی ماں سے صرف یہی پوچھتے رہے۔

رسول اکرم ﷺ کا کیا ہوا؟ وہ کیسے ہیں؟

ماں نے جوب دیا: بیٹے اللہ کی قسم! مجھے تیرے ساتھی کے بارے میں کوئی علم نہیں وہ کس حال میں ہیں اور ابھی کہاں ہیں؟سیدنا ابو بکر نے اپنی ماں سے کہا: ام جمیل فاطمہ بنت خطاب کے پاس جاؤ اور اس سے رسول اللہ کے بارے میں دریافت کرو کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں؟ بیٹے کی فرمائش پوری کرنے کے لیے ماں کھڑی ہوئی اور ام جمیل کے پاس پہنچ کر کہا: میرا بیٹا ابو بکر تم سے محمد بن عبد اللہ کے بارے میں پوچھ رہا ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔ام جمیل نے جواب دیا: نہ تو مجھے ابو بکر کے بارے میں کچھ معلوم ہے اور نہ ہی محمد بن عبد اللہ کے بارے میں۔ ہاں، اگر تم چاہوں تو میں تمہارے بیٹے کو دیکھنے چلوں؟ ام الخیر نے کہا ہاں چلو۔ام جمیل جب آپ کے پاس پہنچی تو آپ کی حالت شدت مرض سے ناگفتہ بہ تھی۔ وہ ابو بکر کے قریب ہوئی اور زور سے کہنے لگی: فسق و کفر میں ڈوبی ہوئی آپ کی قوم نے آپ کو تکلیف دی ہے۔ مجھے اللہ تعالی سے امید ہے کہ وہ ضرور ان ظالموں سے انتقام لے گا۔ سیدنا ابو بکر کی زبان کھلی اور کہا:

رسول اکرم ﷺ کا کیا ہو؟ وہ کیسے ہیں؟

ام جمیل نے کہا: یہ آپ کی ماں موجود ہیں میں اگر کچھ بتاؤں گی تو وہ بھی سن لے گی۔ آپ نے کہا کوئی بات نہیں تمہیں اس سے کوئی خطرہ نہیں۔ ام جمیل نے بتایا:

رسول اکرم ﷺ بالکل صحیح سالم ہیں۔

ابو بکر نے پوچھا وہ اب کہاں ہیں؟ام جمیل نے کہا دار ارقم میں ہیں۔ ابو بکر کہنے لگے:

میں نے اللہ سے عہد کر لیا ہے کہ جب تک محمد کی خدمت میں حاضر نہ ہو جاؤں، نہ کچھ کھاؤں گا نہ کچھ پیوں گا۔

ام جمیل اور آپ کی والدہ نے آپ کا اصرار دیکھا تو وہ تھوڑی دیر رکی رہیں۔ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں اور راستہ خالی پڑا ہوا ہے تو وہ سیدنا ابو بکر کو سہارا دیتے ہوئے رسول اکرم کی خدمت میں لائیں۔ رسول اکرم کی جب نگاہ مبارک ابو بکر پر پڑی تو آپ ان کی طرف جھک پڑے اور بوسہ دیا۔ دوسرے مسلمان بھی ابو بکر کی طرف جھک پڑے۔ اس منظر کو دیکھ کر رسول اکرم کو بڑی کوفت ہوئی اور آپ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ مگر اس حالت میں بھی سیدنا ابو بکر نے

اکرم سے اپنی بے لاگ محبت کا ثبوت دیا اور عرض کرنے لگے

اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! (آپ ﷺ صحیح سالم ہیں تو پھر) مجھے کوئی پروا نہیں، صرف اتنی تکلیف ہے کہ فاسق نے میرے چہرے پر جوتا مارا اور یہ میری ماں ہے جو بلاشبہ اپنے بیٹے کے حق میں مہربان اور وفادار ہے، آپ کی ہستی مبارک ہے، آپ میری ماں کو اللہ کی طرف دعوت دیں اور اس کے حق میں دعائے خیر فرما دیں۔ ممکن ہے کہ اللہ تعالی میری ماں کو آپ کی دعوت کی برکت سے جہنم کی آگ سے بچا دے۔

چنانچہ سیدنا ابو بکر کی خواہش پر رسول اکرم نے آپ کی ماں کے لیے دعا فرمائی۔ اللہ تعالی نے اپنے نبی کی دعا کو شرف قبولیت بخشا اور سیدنا ابو بکر کی ماں مسلمان ہو گئیں۔[30]ایک اور روایت میں ہے کہ حمزہ بن عبد المطلب اسی روز ایمان لائے جس روز تمام مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ابو بکر کو کفار نے یہ اذیت اور تکلیف پہنچائی۔[31]

اس واقعہ کے بعد رسول اکرم کی نظر میں ابو بکر کی وقعت پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گئی اور ابو بکر آپ کے خاص راز دار اور محبوب بن گئے۔ اہل سیر کا بیان ہے کہ حضور روزانہ دومرتبہ ابو بکر کے مکان پر تشریف لے جاتے تھے۔ ہجرت مدینہ تک آپ کا یہی معمول رہا۔ عروہ بن زبیر سے مروی ہے کہ عائشہ نے فرمایا ہے کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا اپنے والدین کو دین اسلام پر پایا اور (مکہ معظمہ) ہم پر کوئی دن ایسا نہیں گذرا جس میں رسول اللہ روزانہ دو مرتبہ صبح و شام ہمارے گھر تشریف نہ لاتے ہوں۔

No comments:

Post a Comment