SAIFI MEDIA

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

یہ ویب سائٹ ان لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے جو تصوف اور اس تک مکمل رسائی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ یہاں آپ کو اولیا اکرام کی تاریخ مل سکتی ہے۔ خصوصاً سلسلہ سیفیہ اور ان کی تعلیمات یہاں موجود ہیں۔ آپ کسی بھی سوال کے لئے پوچھ سکتے ہیں۔ شکریہ

تازہ ترین

میاں محمد سیفی

میاں محمد حنفی سیفی المعروف میاں صا حب سلسلہ سیفیہ کے معروف صوفی بزرگ ہیں،اپنے مرشدگرامی آخوندزادہ پیر سیف الر حمن مبارک سے نسبت کے بعدمیا ں محمدسیفی و حنفی کے نام سے مشہور ہوئے۔ آپ نقشبندی مجددی سیفی سلسلے کے صوفی شیخ ہیں۔ آپ سنی حنفی ماتریدی طریقے کے عمل پیرا ہیں۔ میاں محمد سیفی حنفی کی توجہ سے لاکھوں افراد کے سینوں میں اللہ کا ذکر جاری ہوا۔ اجتماعات میں دورانِ ذکر لوگوں میں وجدوحال کی کیفیت طاری ہو تی ہے آپ کی دعوت سے بہت سے غیر مسلم دائرہ اسلام میں داخل ہو ئے ہیں۔ آپ لوگوں کو سنت کے مطابق با عمل مسلمان بننے کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کے لاکھوں مریدین پاکستان کے ہر خطے میں موجود ہیں تصوف و سلوک کی خدمت میں ان کا نمایاں کردار ہے۔



پیدائش

میاں محمد حنفی سیفی سلسلہ سیفیہ کے اکابرین میں شمار کیے جاتے ہیں آپ کے والد کا نام غلام محمد المعروف لالہ مولوی صاحب ہے۔ میاں صا حب 1950ءمیں موضع جٹ موہانہ ضلع میانوالی میں ہوئی۔ اور کچھ عرصہ بعد شہرکندیاں میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔[1] میاں صاحب کے دادا میا ں محمد احمد اپنے دور کے عظیم المر تبت ولی کا مل تھے میا ں صاحب کی دادی جان بھی اپنے دور کی شب زندہ دارصوم و صلوۃ کی پا بنداور تقویٰ اور طہارت والی ایک عظیم ولیہ خا تو ن تھی ،میاں صا حب کی ولادت سے ہی والدین پر بڑے عجیب و غریب قسم کے واقعا ت ظا ہر ہو ئے ،صا حب بصیرت انسان میا ں صا حب کی پیشا نی دیکھ کر ان کی عظمت اور علومرتبت ہو نے کی بشا رت دیتے تھے

تعلیم

میا ں صا حب نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی غلام محمد المعروف لالہ مو لوی صا حب اور دادا میاں محمد احمد سے حا صل کی ، قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم دادا کے حقیقی بھا ئی مو لانا میاں مرا د سے حا صل کی، جب مرشدی سر کار آخوندزادہ پیر سیف الر حمن مبارک سے میاں صا حب نے ذکرو بیعت کی سعا دت حا صل کی تو آخوندزادہ پیر سیف الر حمن مبارک نے علم ظاہر کے حصول کا حکم فرمایا، اس کے بعد میا ں صاحب نے درس نظامی کی فا رسی و عربی کی ابتدائی کتب کی تعلیم حاصل کی ،بعد میں فقہ اور احا دیث کی ابتدائی کُتب سے بھی استفادہ کیا، پھر فقہ کی کتب کی تکمیل کے بعد تفسیر مظہری اور بہت سے دینی علوم سے استفادہ کیا۔

میا ں صا حب کے اساتذہ جن سے آپ نے علم ظاہر حا صل کیا ان کے نام درجہ ذیل ہیں ۔
میا ں مراد صا حب (یہ میا ں صا حب کے دادا کے چھو ٹے بھا ئی ہیں ) * قا ری اللہ یار محمد ی سیفی
مولانا محمد ابرا ہیم سیفی ( آپ افغا نستان کے وزیر عشرو زکوۃ رہے)
قا ر ی محمد شیر سیفی (میانوالی واں بھچراں)

ازداوجی زندگی

قا ر ی محمد شیر سیفی (میانوالی واں بھچراں) میاں صاحب کی پہلی شادی 1965 ء میں اپنے حقیقی چچا صوفی نور محمد کی صاحبزادی سے ہوئی شادی کے وقت آپ کی عمر 15 سال تھی ان سے تین بیٹے

مخدوم زادہ میاں محمد آصف سیفی
میاں محمد رمضان
میاں محمد حا مد
اور 8 بیٹیاں ہو ئیں دوسری شادی سے دو بیٹے

میا ں احمد
میاں محمود
اور ایک بیٹی ہو ئی ۔

ذکر و بیعت

میاں صاحب نے1983ء میں آخوندزادہ سیف الرحمن سے ذکر و بیعت حاصل کی جو سلسلہ سیفیہ کے بانی تھے میاں صاحب نے حاجی عبد الغفور جو آپ کے چچا بھی تھے ان کی وساطت سے سر کار آخوندزادہ پیر سیف الر حمن مبارک کے مرید ہوئے۔ اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ، مجددیہ، چشتیہ، قادریہ اور سہروردیہ کے ظاہری و باطنی علوم انہی سے حاصل کیے۔ جب آخوندزادہ پیر سیف الر حمن مبارک نے آ پ کو ذکرو بیعت کرنے کا حکم صادر فرمایا اس وقت سے لیکر آج تک میاں صاحب دین کا کام بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ آپ کے مرشد فرماتے میاں صاحب میرے قدم پر قدم رکھ کر چلتے ہیںٗٗ ایک مرتبہ بھری محفل میں فرمایا میرے لاکھوں مرید ہیں لیکن ان سب کے ہونے کے باوجود میرے دل کو اتنی تسلی نہیں ہوتی جتنی کہ میاں صاحب آپ میرے پاس ہوں تو میرے دل کو تسلی ہوتی ہے میرے مرشد مولانا محمد ہاشم سمنگانی فرماتے تھے کہ کسی شخص کا ایک بیٹا ہو مگر نر ہو تو وہ لاکھوں سے بہتر ہے

نگاہ مرشد

میاں صا حب خود فرماتے ہیں
“میں جب اپنے حالات کو دیکھتا ہوں تو میری نظر فوراً آخوند زادہ مبارک کے کمالات کی طرف جاتی ہے۔ کئی دفعہ اتفاق ہوا دوستوں نے کہا کہ اپنے مرشد کی کرامت سناؤ تو میں دوستوں کو کہتا ہوں میں خود اپنے مرشد کی بڑی کرامت ہوں۔ ایک وقت میں نے عرض کیا کہ جب سرکار نے مجھے دربار داتا صاحب محفل کرنے کا حکم دیا تو میں نے عرض کی کہ وہاں تو علما بڑی بڑی تقریریں کرتے ہیں تو سرکار مبارک نے فرمایا کہ تقریریں کرنے والے تجھ سے آکر فیض حاصل کیا کریں گے۔ آج سینکڑوں کی تعداد میں ان علما کی قطاریں اپنے آستانے پر دیکھتا ہوں تو مرشد گرامی کے وہ جملے بار بار یاد آتے ہیں۔ اور آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تیرے دیگر پنجاب کے خلفاء کی نسبت زیادہ مرید ہوں گے،اور اللہ تعالی کے فضل و کرم سے آج پاکستان کے علاوہ پوری دنیا کے کئی ممالک میں عاجز کے مریدوں کے حلقے ذکر ہو رہے ہیں اور فقیر کی یہ دلی تمنا ہوتی ہے کہ جو نعمت مرشد کریم نے اس ناچیز کو عطا کی ہے اس سے دنیا کا ہر انسان فائدہ حاصل کرے،اور مرشد کریم کی اس نعمت عظمیٰ کو پھیلانے کے لیے فقیر شب و روز کوشاں ہے۔ جو بھی ایک دفعہ آستانے پر حاضر ہوتا ہے وہ اس نعمت کو حاصل کیے بغیر نہیں لوٹتا۔ کئی چور، ڈاکو ،شرابی،زانی ،فلم اسٹاراور بدقماش مرشد کریم کے دیے ہوئے کمال کی برکت سے آج وہ صاحب کمال بن کر عاشقین سالکین کے سینوں کو ذکر خدا سے گرما رہے ہیں”۔

آستانہ شریف

ابتدا گھر کے ساتھ ملحقہ جو زمین خریدی تھی اپنے مرشدکے حکم پر اس پر آستانہ عالیہ تعمیر کر دیا مگر تھوڑے ہی عرصہ بعد سالکین کی جماعت بڑھتی گئی ،جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے ملحقہ مکان کی گلیاں بھی بند ہونے لگیں۔ بالآخر اس کے بعد مسجد کے لیے وسیع جگہ خریدی گئی جہاں آستانہ عالیہ راوی ریان شریف کی بنیاد رکھی گئی اسی مقام پر آج جامع مسجد انوارِ مدینہ بھی تعمیر ہے۔

No comments:

Post a Comment